زور سے طمانچہ مار دیا، اِس پر اُسے غصہ آیا اور اُس نے آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو قتل کرنے کا ارادہ کرلیا، یہ دیکھ کر حضرت آسیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہانے کہا: اے بادشاہ! یہ ابھی بچہ ہے اسے کیا سمجھ؟ اگر تو تجربہ کرنا چاہے تو تجربہ کرلے۔ اس تجربہ کے لئے ایک طشت میں آگ اور ایک طشت میں سرخ یاقوت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے سامنے پیش کئے گئے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یاقوت لینا چاہا مگر فرشتے نے آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ہاتھ انگارہ پر رکھ دیا اور وہ انگارہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے منہ میں دے دیا اس سے زبان مبارک جل گئی اور لکنت پیدا ہوگئی۔(1)
وَاجْعَلۡ لِّیۡ وَزِیۡرًا مِّنْ اَہۡلِیۡ ﴿ۙ۲۹﴾ ہٰرُوۡنَ اَخِی ﴿ۙ۳۰﴾ اشْدُدْ بِہٖۤ اَزْرِیۡ ﴿ۙ۳۱﴾ وَاَشْرِکْہُ فِیۡۤ اَمْرِیۡ ﴿ۙ۳۲﴾ کَیۡ نُسَبِّحَکَ کَثِیۡرًا ﴿ۙ۳۳﴾ وَّنَذْکُرَکَ کَثِیۡرًا ﴿ؕ۳۴﴾ اِنَّکَ کُنۡتَ بِنَا بَصِیۡرًا ﴿۳۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور میرے لئے میرے گھر والوں میں سے ایک وزیر کردے۔ وہ کون میرا بھائی ہارون۔ اس سے میری کمر مضبوط کر۔ اور اسے میرے کام میں شریک کر۔ کہ ہم بکثرت تیری پاکی بولیں۔ اور بکثرت تیری یاد کریں۔ بیشک تو ہمیں دیکھ رہا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور میرے لیے میرے گھر والوں میں سے ایک وزیر کردے۔ میرے بھائی ہارون کو ۔ اس کے ذریعے میری کمر مضبوط فرما۔ اور اسے میرے کام میں شریک کردے۔ تاکہ ہم بکثرت تیری پاکی بیان کریں۔ اور بکثرت تیرا ذکر کریں ۔ بیشک تو ہمیں دیکھ رہا ہے ۔
{وَاجْعَلۡ لِّیۡ وَزِیۡرًا مِّنْ اَہۡلِیۡ:اور میرے لیے میرے گھر والوں میں سے ایک وزیر کردے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی چھ آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے مزید عرض کی: میرے لیے میرے گھر والوں میں سے ایک وزیر کر دے جو میرا معاون اور مُعتمد ہواور وہ میرا بھائی ہارون ہو، اس کے ذریعے میری کمر مضبوط فرما اور
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…بغوی، طہ، تحت الآیۃ: ۲۷، ۳/۱۸۲۔