Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
183 - 695
کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس نے خدا ہونے کادعویٰ کیا تھا اور کفر میں حد سے گزر گیا تھا۔(1)
قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیۡ صَدْرِیۡ ﴿ۙ۲۵﴾ وَ یَسِّرْ لِیۡۤ اَمْرِیۡ ﴿ۙ۲۶﴾ وَاحْلُلْ عُقْدَۃً مِّنۡ لِّسَانِیۡ ﴿ۙ۲۷﴾ یَفْقَہُوۡا قَوْلِیۡ ﴿۪۲۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: عرض کی اے میرے رب میرے لیے میرا سینہ کھول دے ۔ اور میرے لیے میرا کام آسان کر۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ کہ وہ میری بات سمجھیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: موسیٰ نے عرض کی: اے میرے رب! میرے لیے میرا سینہ کھول دے ۔اور میرے لیے میرا کام آسان فرما دے۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ تاکہ وہ میری بات سمجھیں۔
{قَالَ رَبِّ:موسیٰ نے عرض کی: اے میرے رب!}اس آیت اور اس کے بعد والی تین آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو سر کش فرعون کی طرف جانے کا حکم دیا گیا اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جان گئے کہ انہیں ایک ایسے عظیم کا م کا پابند کیا گیا ہے جس کے لئے سینہ کشادہ ہونے کی حاجت ہے تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی: اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، میرے لیے میرا سینہ کھول دے اور اسے رسالت کا بوجھ اٹھانے کے لئے وسیع فرما دے اور اسباب پیدا فرما کر دیگر رکاوٹیں ختم کر کے میرے لیے میرا وہ کام آسان فرما دے جس کاتو نے مجھے حکم دیا ہے اور میری زبان کی گرہ کھول دے جو بچپن میں آگ کا انگارہ منہ میں رکھ لینے سے پڑ گئی ہے تاکہ وہ لوگ رسالت کی تبلیغ کے وقت میری بات سمجھیں۔(2)
{وَاحْلُلْ عُقْدَۃً مِّنۡ لِّسَانِیۡ:اور میری زبان سے گرہ کھول دے۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی زبان میں لُکْنت پیدا ہونے کی وجہ یہ تھی کہ بچپن میں ایک دن فرعون نے آپ کواٹھایا تو آپ نے اس کی داڑھی پکڑ کر اس کے منہ پر
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…جلالین، طہ، تحت الآیۃ: ۲۴، ص۲۶۲، خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۲۴، ۳/۲۵۲، ملتقطاً۔
2…مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۲۵-۲۸، ص۶۸۹-۶۹۰، خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۲۵-۲۸، ۳/۲۵۲-۲۵۳، روح البیان، طہ، تحت الآیۃ: ۲۵-۲۸، ۵/۳۷۸، ملتقطاً۔