Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
182 - 695
کو اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں۔(1)
کلیم اور حبیب کو دکھائی گئی نشانیوں میں فرق:
	اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے کلیم حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے ارشاد فرمایا:
’’لِنُرِیَکَ مِنْ اٰیٰتِنَا الْکُبْرٰی‘‘
ترجمۂکنزُالعِرفان: تاکہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں۔
 اور اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ
’’لَقَدْ رَاٰی مِنْ اٰیٰتِ رَبِّہِ الْکُبْرٰی‘‘ (2)
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک اس نے اپنے رب کی بہت بڑینشانیاں دیکھیں۔
	 ان میں فرق یہ ہے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کوجو بڑی بڑی نشانیاں دکھائی گئیں ان کا تعلق فقط زمین کے عجائبات سے ہے جبکہ سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اپنے رب عَزَّوَجَلَّکی جو بڑی نشانیاں دیکھی ہیں ان کا تعلق زمین کے عجائبات سے بھی ہے اور آسمانوں کے عجائبات سے بھی ہے۔(3)
اِذْہَبْ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّہٗ طَغٰی ﴿٪۲۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: فرعون کے پاس جا اس نے سر اٹھایا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: فرعون کے پاس جاؤ، بیشک وہ سرکش ہوگیا ہے۔ 
{اِذْہَبْ اِلٰی فِرْعَوْنَ:فرعون کے پاس جاؤ۔} ارشاد فرمایا کہ اے موسیٰ! عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، تم ہمارے رسول ہو کر فرعون کے پاس جاؤ، بیشک وہ سرکش ہوگیا ہے اور کفر میں حد سے گزر گیا اور خدائی کا دعویٰ کرنے لگا ہے۔ حقیقت میں تو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو فرعون اور اس کے تمام ماننے والوں کی طرف بھیجا گیا تھاالبتہ فرعون کوخاص طور پر ذکر 
ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
1…روح البیان، طہ، تحت الآیۃ: ۲۳، ۵/۳۷۷۔
2…نجم:۱۸۔
3…روح البیان، طہ، تحت الآیۃ: ۲۳، ۵/۳۷۷۔