Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
178 - 695
حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے عصا کو دیکھ لیں اور یہ بات قلب میں خوب راسخ ہوجائے کہ یہ عصا ہے تاکہ جس وقت وہ سانپ کی شکل میں ہو تو آپ کے خاطر مبارک پر کوئی پریشانی نہ ہو یا یہ حکمت ہے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو مانوس کیا جائے تاکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے کلام کی ہیبت کا اثر کم ہو۔(1)
سوال پوچھنے کی وجہ لاعلمی ہونا ضرور ی نہیں:
	اس آیت سے معلوم ہوا کہ سوال ہمیشہ پوچھنے والے کی لا علمی کی بنا پر نہیں ہوتا بلکہ اس میں کچھ اور بھی حکمتیں ہوتی ہیں۔ لہٰذا کسی موقعہ پر حضور پُرنور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا کسی سے کچھ پوچھنا حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بے خبر ہونے کی دلیل نہیں۔ 
قَالَ ہِیَ عَصَایَ ۚ اَتَوَکَّؤُا عَلَیۡہَا وَ اَہُشُّ بِہَا عَلٰی غَنَمِیۡ وَلِیَ فِیۡہَا مَاٰرِبُ اُخْرٰی ﴿۱۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: عرض کی یہ میرا عصا ہے میں اس پر تکیہ لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں پر پتے جھاڑتا ہوں اور میرے اس میں اور کام ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: عرض کی: یہ میرا عصا ہے میں اس پر تکیہ لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں پر پتے جھاڑتا ہوں اور میری اس میں اور بھی کئی ضرورتیں ہیں۔ 
{قَالَ ہِیَ عَصَایَ:عرض کی: یہ میرا عصا ہے۔} حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے عرض کی: یہ میرا عصا ہے ، جب تھک جاتا ہوں تو اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کے لیے خشک درختوں سے پتے جھاڑتا ہوں اور میری کئی ضروریات میں بھی یہ میرے کام آتا ہے جیسے اس کے ذریعے توشہ اور پانی اٹھانا ، مُوذی جانوروں کو دفع کرنا اور دشمنوں سے لڑائی میں کام لینا وغیرہ ۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا اپنے عصا کے ان فوائد کو بیان کرنا اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں کے 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۱۷، ص۶۸۸۔