Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
179 - 695
شکر کے طور پر تھا۔(1)
عصا رکھنے کے فوائد:
	اس آیت سے معلوم ہوا کہ اپنے پاس عصا رکھنا انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی سنت ہے اور اس سے کئی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ حضرت حسن بصری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں ’’ عصا رکھنے میں چھ فضیلتیں ہیں ۔ (1) یہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت ہے ، (2)صُلحاکی زینت ہے، (3) دشمنوں کے خلاف ہتھیار ہے ، (4)کمزورں کا مددگار ہے ، (5)منافقین کے لیے پریشانی کاباعث ہے ، (6)عبادت میں زیادتی کاباعث ہے۔(2)
عصا کے ساتھ جنت میں چہل قدمی:
	تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بھی عصا مبارک استعمال فرمایا کرتے تھے ،اسی سلسلے میں ایک بہت پیاری حکایت ملاحظہ ہو، چنانچہ جب حضرت عبداللّٰہ بن انیس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے خالد بن سفیان ہزلی کو قتل کر دیا اور اس کا سر کاٹ کر مدینہ منورہ لائے اور تاجدارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے قدموں میں ڈال دیا تو حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے حضرت عبداللّٰہ بن انیس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی بہادری اور جان بازی سے خوش ہو کر انہیں اپنا عصا عطا فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ تم اسی عصا کو ہاتھ میں لے کر جنت میں چہل قدمی کرو گے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، قیامت کے دن یہ مبارک عصا میرے پاس نشانی کے طور پر رہے گا۔ چنانچہ انتقال کے وقت انہوں نے یہ وصیت فرمائی کہ اس عصا کو میرے کفن میں رکھ دیا جائے۔(3)
قَالَ اَلْقِہَا یٰمُوۡسٰی ﴿۱۹﴾ فَاَلْقٰىہَا فَاِذَا ہِیَ حَیَّۃٌ تَسْعٰی ﴿۲۰﴾ قَالَ خُذْہَا وَلَا تَخَفْ ٝ سَنُعِیۡدُہَا سِیۡرَتَہَا الْاُوۡلٰی ﴿۲۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: فرمایا اسے ڈال دے اے موسیٰ۔ تو موسیٰ نے اسے ڈال دیا تو جبھی وہ دوڑتا ہوا سانپ ہوگیا۔ فرمایا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۱۸، ۳/۲۵۱، مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۱۸، ص۶۸۸، ملتقطًا۔
2…قرطبی، طہ، تحت الآیۃ: ۱۸، ۶/۸۹، الجزء الحادی عشر۔
3…زرقانی علی المواہب، کتاب المغازی، سریۃ عبد اللّٰہ بن انیس، ۲/۴۷۳-۴۷۴ ملخصًا۔