Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
177 - 695
تعالیٰ نے اپنے کسی بھی بندے کو اس کی اطلاع نہیں دی بلکہ اَحادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کوقیامت آنے کا وقت بھی بتا دیا ہے اور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا قیامت کی نشانیاں بیان فرمانا اور اس کامُتَعَیَّن  وقت امت کو نہ بتانا بھی حکمت کے پیشِ نظر ہے۔
فَلَا یَصُدَّنَّکَ عَنْہَا مَنْ لَّا یُؤْمِنُ بِہَا وَاتَّبَعَ ہَوٰىہُ فَتَرْدٰی ﴿۱۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو ہرگز تجھے اس کے ماننے سے وہ باز نہ رکھے جو اس پر ایمان نہیں لاتا اور اپنی خواہش کے پیچھے چلا پھر تو ہلاک ہوجائے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو قیامت پر ایمان نہ لانے والا اور اپنی خواہش کی پیروی کرنے والا ہرگز تجھے اس کے ماننے سے باز نہ رکھے ورنہ تو ہلاک ہوجائے گا۔
{فَلَا یَصُدَّنَّکَ عَنْہَا مَنْ لَّا یُؤْمِنُ بِہَا:تو قیامت پر ایمان نہ لانے والا ہرگز تجھے اس کے ماننے سے باز نہ رکھے ۔} یہاں آیت میں خطاب بظاہر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے ہے اور اس سے مراد آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اُمت ہے۔ چنانچہگویا کہ ارشاد فرمایا :اے میرے کلیم موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے امتی! قیامت پر ایمان نہ لانے والا اور اللّٰہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں اپنی خواہش کی پیروی کرنے والا ہرگز تجھے قیامت کو ماننے سے باز نہ رکھے ورنہ تو ہلاک ہوجائے گا۔(1)
وَمَا تِلْکَ بِیَمِیۡنِکَ یٰمُوۡسٰی ﴿۱۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور یہ تیرے داہنے ہاتھ میں کیا ہے اے موسیٰ ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اے موسیٰ! یہ تمہارے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟ 
{وَمَا تِلْکَ بِیَمِیۡنِکَ:اور اے موسیٰ! یہ تمہارے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟}اس سوال کی حکمت یہ ہے کہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مدارک، طہ، تحت الآیۃ: ۱۶، ص۶۸۸۔