ان آیات میں ہر بندے کے لئے یہ تنبیہ ہے کہ وہ خفیہ اور اِعلانیہ، ظاہری اور باطنی تمام گناہوں سے پرہیز کرے کیونکہ کوئی ہمارے گناہوں کو جانے یا نہ جانے اور کوئی انہیں دیکھے یا نہ دیکھے لیکن وہ اللّٰہ تعالیٰ تو دیکھ رہا ہے جو دنیا میں کسی بھی وقت اس کی گرفت فرما سکتا ہے اور اگر اس نے دنیا میں کوئی سزا نہ دی تو وہ آخرت میں جہنم کی دردناک سزا دے سکتا ہے۔ نیز ان آیات میں نیک اعمال کرنے کی ترغیب بھی ہے کہ لوگ اللّٰہ تعالیٰ کی رضاکے لئے کوئی نیکی چھپ کر کریں یا سب کے سامنے ، اللّٰہ تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں اس کی جزا عطا فرمائے گا۔
بلند آواز سے ذکر کرنے کا مقصد:
ابو سعید عبداللّٰہ بن عمر رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے تفسیر ِبیضاوی میں اس آیت میں مذکور لفظ’’قول‘‘ سے اللّٰہ تعالیٰ کا ذکر اور دعا مراد لی ہے اور فرمایا ہے کہ اس آیت میں اس پر تنبیہ کی گئی ہے کہ ذکر و دعا میں جَہر اللّٰہ تعالیٰ کو سنانے کے لئے نہیں ہے بلکہ ذکر کو نفس میں راسخ کرنے اور نفس کو غیر کے ساتھ مشغول ہونے سے روکنے اور باز رکھنے کے لئے ہے۔(1)
اَللہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ لَہٗ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی ﴿۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: اللّٰہ کہ اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں اسی کے ہیں سب اچھے نام۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہ اللّٰہ ہے ، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ سب اچھے نام اسی کے ہیں۔
{اَللہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ:وہ اللّٰہ ہے ، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔}یعنی اللّٰہ تعالیٰ معبودِ حقیقی ہے اس کے سوا کوئی خدا نہیں اوروہ حقیقتاً واحد ہے اور اَسماء و صِفات کی کثرت اس کی ذات کو تعبیر کرنے کے مختلف ذرائع ہیں ۔یہ نہیں کہ صفات کی کثرت ذات کی کثرت پر دلالت کرے جیسے کسی آدمی کو کہیں کہ یہ عالم بھی ہے اور سخی بھی تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسے عالم بھی کہہ سکتے ہیں اور سخی بھی ، نہ یہ کہ دو نام رکھنے سے وہ ایک سے دو آدمی بن گئے۔
وَ ہَلْ اَتٰىکَ حَدِیۡثُ مُوۡسٰی ۘ﴿۹﴾
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…بیضاوی، طہ، تحت الآیۃ: ۷، ۴/۴۱۔