{فَاِنَّہٗ یَعْلَمُ السِّرَّ وَاَخْفٰی: تو بیشک وہ آہستہ آواز کو جانتا ہے اور اسے (بھی)جو اس سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے۔} اس آیت کے دو الفاظ ’’اَلسِّرَّ‘‘ اور ’’اَخْفٰی‘‘ کے بارے میں مفسرین کے مختلف اَقوال ہیں، جیسے ایک قول یہ ہے کہ سِروہ ہے جسے آدمی چھپاتا ہے اور’’ اس سے زیادہ پوشیدہ ‘‘وہ ہے جسے انسان کرنے والا ہے مگر ابھی جانتا بھی نہیں اور نہ اُس سے اِس کے ارادے کا کوئی تعلق ہوا ، نہ اس تک اس کاخیال پہنچا ۔ ایک قول یہ ہے کہ سِر سے مراد وہ ہے جسے بندہ انسانوں سے چھپاتا ہے اور ’’اس سے زیادہ چھپی ہوئی‘‘ چیز وسوسہ ہے ۔ ایک قول یہ ہے کہ بندے کا راز وہ ہے جسے بندہ خود جانتا ہے اور اللّٰہ تعالیٰ جانتا ہے اور’’ اس سے زیادہ پوشیدہ ‘‘ربّانی اَسرار ہیں جنہیں اللّٰہ تعالیٰ جانتا ہے بندہ نہیں جانتا۔(1)
برے کاموں سے بچنے اور نیک اعمال کرنے کی ترغیب:
اس آیت میں بیان ہوا کہ اللّٰہ تعالیٰ ہماری آہستہ آواز کو جانتا ہے اور جو اس سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے اسے بھی جانتاہے ۔اس کے ساتھ یہ بھی یاد رہے کہ اللّٰہ تعالیٰ بندوں کے ظاہری باطنی اَحوال ،آنکھوں کی خیانت ، سینوں میں چھپی باتیں اور ہمارے تمام کام جانتا ہے اور ہمارے تمام اَفعال کو دیکھ بھی رہا ہے،چنانچہ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’وَ اللہُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوۡنَ وَمَا تَکْتُمُوۡنَ‘‘ (2)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اللّٰہ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے اور جو تم چھپاتے ہو۔
اور ارشاد فرماتا ہے:
’’یَعْلَمُ خَآئِنَۃَ الْاَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُوۡرُ‘‘(3)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ آنکھوں کی خیانت کوجانتا ہے اور اسےبھی جو سینے چھپاتے ہیں۔
اور ارشاد فرمایا
’’اِعْمَلُوۡا مَا شِئْتُمْ ۙ اِنَّہٗ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ‘‘(4)
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم جو چاہو کرتے رہو ۔بیشک وہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۷، ۳/۲۴۹، ملتقطًا۔
2…مائدہ:۹۹۔
3…مومن:۱۹۔
4…حم السجدہ:۴۰۔