Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
171 - 695
ترجمۂکنزالایمان: اور کچھ تمہیں موسیٰ کی خبر آئی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کیا تمہارے پاس موسیٰ کی خبر آئی۔
{وَ ہَلْ اَتٰىکَ حَدِیۡثُ مُوۡسٰی:اور کیا تمہارے پاس موسیٰ کی خبر آئی۔}اس سے پہلی آیات میں قرآنِ مجید اور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا حال بیان کیا گیا اور اب یہاں سے انبیاءِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے حالات بیان کئے جا رہے ہیں تاکہ اس سے حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے دل کو تَقْوِیَت حاصل ہو اور اس سلسلے میں سب سے پہلے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا واقعہ بیان کیا گیا کیونکہ انہیں نبوت و رسالت کے فرائض کی ادائیگی میں جس قدر مشقتوں اور سختیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اس میں حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے قلب مبارک کے لئے بہت تسلی ہے، چنانچہ یہاں حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے اس سفر کا واقعہ بیان فرمایا جارہا ہے جس میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے اجازت لے کرمَدْیَن سے مصر کی طرف اپنی والدہ ماجدہ سے ملنے کے لئے روانہ ہوئے تھے ، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے اہلِ بیت ہمراہ تھے اور آپ نے شام کے بادشاہوں (کی طرف سے نقصان پہنچنے) کے اندیشہ سے سڑک چھوڑ کر جنگل میں مسافت طے کرنا اختیار فرمایا ،اس وقت زوجۂ محترمہ حاملہ تھیں ، چلتے چلتے طور پہاڑکے مغربی جانب پہنچے تویہاں رات کے وقت زوجۂ محترمہ کو دردِ زہ شروع ہوا ، یہ رات اندھیری تھی، برف پڑ رہی تھا اور سردی شدت کی تھی ،اتنے میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو دور سے آگ معلوم ہوئی۔(1)
اِذْ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَہۡلِہِ امْکُثُوۡۤا اِنِّیۡۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیۡۤ اٰتِیۡکُمۡ مِّنْہَا بِقَبَسٍ اَوْ اَجِدُ عَلَی النَّارِ ہُدًی ﴿۱۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: جب اس نے ایک آگ دیکھی تو اپنی بی بی سے کہا ٹھہرو مجھے ایک آگ نظر پڑی ہے شاید میں تمہارے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیرکبیر، طہ، تحت الآیۃ: ۹، ۸/۱۵، خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۹، ۳/۲۴۹-۲۵۰، ملتقطًا۔