Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
166 - 695
اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی عظمت:
	اس آیتِ مبارکہ میں سرکارِ دوعالَمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اللّٰہعَزَّوَجَلَّ سے محبت اور شوقِ عبادت کا بیان بھی ہے اور اس کے ساتھ ہی اللّٰہ تعالیٰ کی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے محبت اور اس کی بارگاہ میں آپ کی عظمت کا بیان بھی ہے کہ حضور پُرنور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تو اللّٰہ تعالیٰ کی محبت اور عبادت کے شوق میں کثرت سے عبادت کرتے او رمشقت اٹھاتے ہیں، جبکہ اللّٰہ تعالیٰ اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی مشقت پر آپ کی راحت و آسانی کا حکم نازل فرماتا ہے۔
{اِلَّا تَذْکِرَۃً:مگر یہ اس کیلئے نصیحت ہے۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب !صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ہم نے آپ پر یہ قرآن اس لیے نازل نہیں فرمایا کہ آپ مشقت میں پڑجائیں بلکہ یہ قرآن اُس کے لئے نصیحت ہے جو اللّٰہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ سے ڈرنے والے ہی نصیحت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔(1)
تَنۡزِیۡلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَالسَّمٰوٰتِ الْعُلٰی ؕ﴿۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: اس کا اتارا ہوا جس نے زمین اور اونچے آسمان بنائے۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: اس کی طرف سے نازل کیا ہوا ہے جس نے زمین اور اونچے آسمان بنائے۔
{تَنۡزِیۡلًا:نازل کیا ہوا ہے۔} اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کی عظمت بیان فرمائی کہ یہ قرآن اس اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے نازل کیا ہوا ہے جس نے زمینوں اور بلند آسمانوں کو پیدا فرمایا اور جس نے اتنی عظیم مخلوق پیدا فرمائی وہ خالق کتنا عظیم ہو گا اور جب ایسی عظیم ذات نے قرآن مجید نازل فرمایا ہے تو یہ قرآن کتنا عظمت والا ہو گا۔
قرآنِ مجید کی عظمت بیان کرنے کا مقصد:
	یہاں قرآن کریم کی عظمت بیان کرنے سے مقصود یہ ہے کہ لوگ اس کے معانی میں غورو فکر کریں اور اس کے حقائق میں تَدَبُّر کریں کیونکہ اس بات کا مشاہدہ ہے کہ جس پیغام کو بھیجنے والا انتہائی عظیم ہو تو اس پیغام کو بہت اہمیت دی جاتی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…روح البیان، طہ، تحت الآیۃ: ۳،۵/۳۶۲، خازن، طہ، تحت الآیۃ: ۳، ۳/۲۴۹، ملتقطًا۔