ترجمۂکنزالایمان: اے محبوب ہم نے تم پر یہ قرآن اس لیے نہ اتارا کہ تم مشقت میں پڑو ۔ ہاں اس کو نصیحت جو ڈر رکھتا ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: طہ۔ اے حبیب! ہم نے تم پر یہ قرآن اس لیے نہیں نازل فرمایا کہ تم مشقت میں پڑجاؤ۔ مگر یہ اس کے لئے نصیحت ہے جو ڈر تا ہے۔
{طٰہٰ}یہ حروفِ مُقَطَّعات میں سے ہے۔ مفسرین نے اس حرف کے مختلف معنی بھی بیان کئے ہیں ،ان میں سے ایک یہ ہے کہ’’ طٰہٰ ‘‘تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اَسمائِ مبارکہ میں سے ایک اسم ہے اور جس طرح اللّٰہ تعالیٰ نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا نام ’’محمد‘‘ رکھا ہے اسی طرح آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا نام’’طٰہٰ‘‘ بھی رکھا ہے۔(1)
{مَاۤ اَنۡزَلْنَا عَلَیۡکَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰۤی:اے محبوب! ہم نے تم پر یہ قرآن اس لیے نہیں نازل فرمایا کہ تم مشقت میں پڑجاؤ۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ہم نے آپ پر یہ قرآن اس لیے نازل نہیں فرمایا کہ آپ مشقت میں پڑجائیں اور ساری ساری رات قیام کرنے کی تکلیف اٹھائیں۔ اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کرنے میں بہت محنت فرماتے تھے اور پوری رات قیام میں گزارتے یہاں تک کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے مبارک قدم سوج جاتے ۔ اس پر یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی اور حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے حاضر ہو کر اللّٰہ تعالیٰ کے حکم سے عرض کی :آپ اپنے پاک نفس کو کچھ راحت دیجئے کہ اس کا بھی حق ہے ۔ شانِ نزول کے بارے میں ایک قول یہ بھی ہے کہ سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ لوگوں کے کفر اور ان کے ایمان سے محروم رہنے پر بہت زیادہ افسوس اور حسرت کی حالت میں رہتے تھے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے مبارک قلب پر اس وجہ سے رنج و ملال رہا کرتا تھا، تو اس آیت میں فرمایا گیا کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ رنج و ملال کی کوفت نہ اٹھائیں کیونکہ قرآنِ پاک آپ کی مشقت کے لئے نازل نہیں کیا گیا ہے۔(2)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیرقرطبی، طہ، تحت الآیۃ: ۱، ۶/۷۲، الجزء الحادی عشر۔
2…مدارک ، طہ ، تحت الآیۃ: ۲ ، ص۶۸۶ ، خازن ، طہ ، تحت الآیۃ: ۲، ۳/۲۴۸-۲۴۹، ابو سعود، طہ، تحت الآیۃ: ۲، ۳/۴۴۸، ملتقطاً۔