محبوبیت کی دلیل اور ولی کی علامت:
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جب اللّٰہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کو ند اکی جاتی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ فلاں بندے سے محبت رکھتا ہے لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو۔ حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَاماس سے محبت کرتے ہیں۔ پھر حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَامآسمانی مخلوق میں ندا کرتے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ فلاں بندے سے محبت فرماتا ہے لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو، چنانچہ آسمان والے بھی اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر زمین والوں میں اس کی مقبولیت رکھ دی جاتی ہے۔(1)
اس سے معلوم ہوا کہ مومنینِ صالحین و اَولیائے کاملین کی مقبولیتِ عامہ ان کی محبوبیت کی دلیل ہے جیسے کہ حضور غوثِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور خواجہ غریب نواز اور داتا گنج بخش علی ہجویری اور دیگر معروف اَولیاء کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی عام مقبولیت ان کی محبوبیت کی دلیل ہے۔
نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ولی کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ خَلقت اسے ولی کہے اور اس کی طرف قدرتی طور پر دل کو رغبت ہو۔ دیکھ لیں، آج اولیاء اللّٰہ اپنے مزارات میں سور ہے ہیں اور لوگ ان کی طرف کھچے چلے جا رہے ہیں حالانکہ انہیں کسی نے دیکھا بھی نہیں۔
فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰہُ بِلِسَانِکَ لِتُبَشِّرَ بِہِ الْمُتَّقِیۡنَ وَ تُنۡذِرَ بِہٖ قَوْمًا لُّدًّا ﴿۹۷﴾ وَکَمْ اَہۡلَکْنَا قَبْلَہُمۡ مِّنۡ قَرْنٍ ؕ ہَلْ تُحِسُّ مِنْہُم مِّنْ اَحَدٍ اَوْ تَسْمَعُ لَہُمْ رِکْزًا ﴿٪۹۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو ہم نے یہ قرآن تمہاری زبان میں یونہی آسان فرمایا کہ تم اس سے ڈر والوں کو خوشخبری دو اور جھگڑالو لوگوں کو اس سے ڈر سناؤ۔ اور ہم نے ان سے پہلی کتنی سنگتیں کھپائیں کیا تم ان میں کسی کو دیکھتے ہو یا ان کی بھنک سنتے ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو ہم نے یہ قرآن تمہاری زبان میں ہی آسان فرمادیا تاکہ تم اس کے ذریعے متقیوںکو خوشخبری دو
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…بخاری، کتاب بدء الخلق، باب ذکر الملائکۃ، ۲/۳۸۲، الحدیث: ۳۲۰۹۔