Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
161 - 695
اور جھگڑالو لوگوںکو اس کے ذریعے ڈر سناؤ۔ اور ہم نے ان سے پہلے کتنی قومیں ہلاک کردیں۔ کیا اب تم ان میں کسی کو پاتے ہو یا ان کی معمولی سی آواز بھی سنتے ہو ؟
{فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰہُ بِلِسَانِکَ:تو ہم نے یہ قرآن تمہاری زبان میں ہی آسان فرمادیا۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ہم نے یہ قرآن آپ کی زبان عربی میں ہی آسان فرما دیا ہے تاکہ آپ اس کے ذریعے پرہیزگار لوگوں کو (اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت و رضا کے حصول اور جنت کی )خوشخبری دیں اور کفارِ قریش کے جھگڑالو لوگوں کو اس کے ذریعے اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب کا ڈر سنائیں۔
سورہِ مریم کی آیت97سے متعلق 3اہم باتیں:
	یہاں اس آیت سے متعلق تین اہم باتیں ملاحظہ ہوں،
(1)… بنیادی طور پر اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے لئے قرآن مجیدآسان فرمادیااور یہ آسان فرمانا اس اعتبار سے ہے کہ اسے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی زبان ’’عربی ‘‘میں نازل کیا گیا جس کی وجہ سے فہم ِقرآن آسان ہو گیا۔
(2)…اس آیت میںعذابِ الٰہی سے ڈرنے والوں کو خوشخبری دینے اور جھگڑالو قوم کو ڈرانے کے ذریعے تبلیغ کرنے کا فرمایاگیا،اس سے معلوم ہوا کہ متقی لوگوں کو اللّٰہ تعالیٰ کے فضل و رحمت،رضا اور جنت کی بشارت سناکراور جھگڑالو قوم کو اللّٰہ تعالیٰ کی گرفت اور اس کے عذاب کا ڈر سنا کر تبلیغ کرنے سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔
(3)…قرآن مجید (سر زمینِ عرب میں) عربی زبان میں نازل کیا گیا، اس سے معلوم ہواکہ دنیامیں جس قوم اور علاقے میں اسلام کی تبلیغ کرنی ہو تواس کے لئے وہاں کی زبان سیکھی جائے تاکہ وہ لوگ اپنی زبان میں کی جانے والی تبلیغ کو آسانی سے سمجھ سکیں اور اسلام کے قریب ہو ں۔
{وَکَمْ اَہۡلَکْنَا قَبْلَہُمۡ مِّنۡ قَرْنٍ:اور ہم نے ان سے پہلے کتنی قومیں ہلاک کردیں۔} ارشاد فرمایا کہ ہم نے کفارِ قریش سے پہلے انبیائِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلانے کی وجہ سے بہت سی امتیں ہلاک کر دیں۔ کیا اب تم ان میں کسی کو پاتے ہو یا ان کی معمولی سی آواز بھی سنتے ہو ؟وہ سب نیست و نابود کر دیئے گئے اسی طرح یہ لوگ اگر وہی طریقہ اختیار کریں گے تو ان کا بھی وہی انجام ہو گا ۔