Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
159 - 695
اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کے وقت بہت بڑاخطرہ ہو گا:
	یاد رہے کہ بروزِ قیامت جب بندہ اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے اعمال کا حساب دینے کے لئے حاضر ہو گا تو اس وقت دنیا کا مال، اولاد، دوست اَحباب اور عزیز رشتہ داروں میں سے کوئی اس کے ساتھ نہ ہو گا اور نہ ہی کوئی اللّٰہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر اس کی مدد کر سکے گا اور اس وقت بہت بڑا خطرہ ہو گا کیونکہ یہ بھی ہو سکتاہے کہ کہا جائے ’’ہم نے دنیا میں تمہاری پردہ پوشی کی اور آج بھی تجھے بخش رہے ہیں۔ اس وقت بہت زیادہ خوشی اور سُرور حاصل ہو گا اور پہلے اور بعد والے تم پر رشک کریں گے،، یا،، فرشتوں سے کہاجائے گا کہ اس برے بندے کو پکڑ کر گلے میں طوق ڈالو اور پھر اسے جہنم میں ڈال دو۔ اس وقت تو اتنی بڑی مصیبت میں مبتلا ہو گا کہ اگر آسمان و زمین تجھ پر روئیں تو انہیں مناسب ہے۔ نیز تجھے اس بات پر بہت زیادہ حسرت ہوگی کہ تم نے اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت اور فرمانبرداری میں کوتاہی کی اور تم نے کمینی دنیا کے لئے اپنی آخرت بیچ ڈالی اور اب تیرے پاس کچھ نہیں۔(1)
ہم ہیں اُن کے وہ ہیں تیرے تو ہوئے ہم تیرے	اس سے بڑھ کر تِری سمت اور وسیلہ کیا ہے
ان کی امّت میں بنایا انھیں رحمت بھیجا	یوں نہ فرما کہ تِرا رحم میں دعویٰ کیا ہے
صدقہ پیارے کی حیا کا کہ نہ لے مجھ سے حساب	بخش بے پوچھے لجائے کو لجانا کیا ہے
اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَہُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا ﴿۹۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: بیشک وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے عنقریب ان کے لیے رحمن محبت کردے گا ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک وہ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کئے عنقریب رحمن ان کے لیے محبت پیدا کردے گا۔ 
{اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا:بیشک وہ جو ایمان لائے۔} اس سے پہلی آیات میں مختلف اَقسام کے کافروں کا رد کیا گیا اور ان کے دُنْیَوی و اُخروی اَحوال کو بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا اور اب نیک اعمال کرنے والے مسلمانو ں کاذکر کیا جا رہاہے ، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ بیشک وہ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کئے عنقریب اللّٰہ تعالیٰ انہیں اپنا محبوب بنا لے گا اور اپنے بندوں کے دلوں میں ان کی محبت ڈال دے گا۔(2)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…احیاء علوم الدین، کتاب ذکر الموت ومابعدہ، الشطر الثانی، صفۃ المساء لۃ، ۵/۲۸۰۔
2…تفسیرکبیر، مریم، تحت الآیۃ: ۹۶، ۷/۵۶۷، خازن، مریم، تحت الآیۃ: ۹۶، ۳/۲۴۸، ملتقطاً۔