اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے بندہ ہونے کا اقرار کرتے ہیں اور اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری کرتے اور صرف اسے ہی سجدہ کرتے ہیں تو پھر وہ معبود کس طرح ہو سکتے ہیں۔ دوسری صورت میں اس آیت کا معنی یہ ہو گا کہ قیامت کے دن تمام جن و اِنس اور فرشتے نیز کفار زمین پر جن لوگوں کو اور آسمان پر جن فرشتوں کو اللّٰہ تعالیٰ کی اولاد بتاتے ہیں وہ سب اللّٰہ تعالیٰ کا بندہ ہونے کا اقرار کرتے ہوئے اس کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے اور یہ بات واضح ہے کہ جو کسی کا بندہ ہوتا ہے وہ اس کی اولاد نہیں ہوتا اور جو اولاد ہو وہ اس کا بندہ نہیں ہوتا کیونکہ بندہ ہونا اور اولاد ہونا دونوں جمع ہو ہی نہیں سکتے نیز کوئی اپنی اولاد کا مالک نہیں ہوتا جبکہ اللّٰہ تعالیٰ توہر چیز کا مالک ہے اور جو خود اللّٰہ تعالیٰ کی ملکیت میںہے تو وہ اس کی اولاد ہرگز نہیں ہو سکتا۔
لَقَدْ اَحْصٰىہُمْ وَعَدَّہُمْ عَدًّا ﴿ؕ۹۴﴾ وَکُلُّہُمْ اٰتِیۡہِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَرْدًا ﴿۹۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: بیشک وہ ان کا شمار جانتا ہے اور ان کو ایک ایک کرکے گن رکھا ہے۔ اور ان میں ہر ایک روزِ قیامت اس کے حضور اکیلا حاضر ہوگا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک اس نے انہیں گھیر رکھا ہے اور ان کو ایک ایک کرکے خوب گن رکھا ہے ۔ اور ان میں ہر ایک روزِ قیامت اس کے حضور تنہا آئے گا۔
{لَقَدْ اَحْصٰىہُمْ:بیشک اس نے انہیں گھیر رکھا ہے۔} یعنی اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے علم و قدرت نے سب کو گھیر رکھا ہے اور ہر ذی روح کے سانسوں کی ، دنوں کی ، تمام اَحوال کی اور جملہ معاملات کی تعداد اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے شمار میں ہے، اس پر کچھ مخفی نہیں سب اس کی تدبیر و قدرت کے تحت ہیں۔(1)
{وَکُلُّہُمْ اٰتِیۡہِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَرْدًا:اور ان میں ہر ایک روزِ قیامت اس کے حضور تنہا آئے گا۔} یعنی قیامت کے دن ہر ایک اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں، مال ،اولاد اور معین و مددگار کے بغیر تنہا حاضر ہوگا۔(2)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، مریم، تحت الآیۃ: ۹۴، ۳/۲۴۷-۲۴۸۔
2…مدارک، مریم، تحت الآیۃ: ۹۵، ص۶۸۵۔