Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
157 - 695
ترجمۂکنزُالعِرفان: قریب ہے کہ اس سے آسمان پھٹ پڑیں اور زمین بھی پھٹ جائے اور پہاڑ ٹوٹ کر گرپڑیں ۔ کہ انہوں نے رحمن کے لیے اولاد کا دعویٰ کیا۔حالانکہ رحمن کے لائق نہیں کہ اولاد اختیار کرے۔
{تَکَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْہُ:قریب ہے کہ اس سے آسمان پھٹ پڑیں ۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کے لئے اولاد کا دعویٰ کرنا ایسی بے ادبی و گستاخی کا کلمہ ہے کہ ا س کی وجہ سے اگر اللّٰہ تعالیٰ غضب فرمائے تو وہ تمام جہان کا نظام درہم برہم کر دے ۔ حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ کفار نے جب یہ گستاخی کی اور ایسا بے باکانہ کلمہ منہ سے نکالا تو جن و اِنس کے سوا آسمان ، زمین ، پہاڑ وغیرہ تمام مخلوق پریشانی سے بے چین ہو گئی اور ہلاکت کے قریب پہنچ گئی، فرشتوں کو غضب ہوا اور جہنم کو جوش آگیا۔(1)
{وَ مَا یَنۢبَغِیۡ لِلرَّحْمٰنِ:حالانکہ رحمن کے لائق نہیں ۔} اس آیت میںاللّٰہ تعالیٰ نے اپنا اولاد سے پاک ہونا بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ رحمن کے لائق نہیں کہ اولاد اختیار کرے۔ وہ اس سے پاک ہے اور اس کے لئے اولاد ہونا ممکن نہیں محال ہے کیونکہ بیٹاباپ کا جز، اس کی شبیہ ونظیر اور اس کا مددگار ہوتا ہے جبکہ اللّٰہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ کوئی اس کا جز ہو یا اس کی مثل بنے یا کوئی اس کا مددگار ہو۔
اِنۡ کُلُّ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِلَّاۤ اٰتِی الرَّحْمٰنِ عَبْدًا ﴿ؕ۹۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: آسمانوں اور زمین میں جتنے ہیں سب اس کے حضور بندے ہو کر حاضر ہوں گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: آسمانوں اور زمین میں جتنے ہیں سب رحمن کے حضور بندے ہو کر حاضر ہوں گے۔
{اِنۡ کُلُّ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ:آسمانوں اور زمین میں جتنے ہیں۔} یہ آیت مبارکہ اللّٰہ تعالیٰ کے علاوہ دیگر بناوٹی معبودوں کی نفی کی دلیل بھی بن سکتی ہے اور اس بات کی بھی دلیل بن سکتی ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ اولاد سے پاک ہے۔ پہلی صورت میں اس آیت کا معنی یہ ہو گا کہ کفار زمین پر جن لوگوں کو اور آسمان پر جن فرشتوں کو اپنا معبود مانتے ہیں وہ سب تو
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، مریم، تحت الآیۃ: ۹۰-۹۱، ۳/۲۴۷۔