وتُقَرِّبْنِیْ مِنَ الشَّرِّ، وَاِنِّیْ لَا اَثِقُ اِلاَّ بِرَحْمَتِکَ، فَاجْعَلْ لِیْ عِنْدَکَ عَہْدًا تُوَفِّیْنِیْہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادْ‘‘ توجوشخص یہ کہے گا،اللّٰہ تعالیٰ اس پرمہر لگا کر عرش کے نیچے رکھ دے گا اور جب قیامت کا دن ہوگا تو ندا کرنے والا ندا کرے گا: کہاں ہیں وہ لوگ جن کااللّٰہ تعالیٰ کے پاس عہد ہے؟ پس وہ آدمی کھڑا ہوگا اور اسے جنت میں داخل کر دیا جائے گا۔(1)
وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا ﴿ؕ۸۸﴾ لَقَدْ جِئْتُمْ شَیْـًٔا اِدًّا ﴿ۙ۸۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور کافر بولے رحمن نے اولاد اختیار کی۔بیشک تم حد کی بھاری بات لائے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کافروں نے کہا: رحمن نے اولاد اختیار کی ہے۔ بیشک تم انتہائی ناپسندیدہ بات لائے ہو۔
{وَقَالُوا:اور کافر وں نے کہا۔} اس سے پہلے بتوں کی پوجا کرنے والوں کا رد کیا گیا اور اب ایک بار پھر ان لوگوں کا رد کیا جارہا ہے جو اللّٰہ تعالیٰ کے لئے اولاد ثابت کرتے ہیں ، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ کافر وں نے یہ کہا: رحمن نے اولاد اختیار کی ہے۔ اس آیت میں حضرت عزیر عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو اللّٰہ تعالیٰ کا بیٹا کہنے والے یہودی، حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو اللّٰہ تعالیٰ کا بیٹاکہنے والے عیسائی اور فرشتوں کو اللّٰہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہنے والے مشرکینِ عرب سبھی داخل ہیں۔(2)
تَکَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْہُ وَتَنۡشَقُّ الْاَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ ہَدًّا ﴿ۙ۹۰﴾ اَنۡ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًا ﴿ۚ۹۱﴾ وَ مَا یَنۢبَغِیۡ لِلرَّحْمٰنِ اَنۡ یَّتَّخِذَ وَلَدًا ﴿ؕ۹۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: قریب ہے کہ آسمان اس سے پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ گر جائیں ڈھ کر۔ اس پر کہ انہوں نے رحمن کے لیے اولاد بتائی۔ اور رحمن کے لئے لائق نہیں کہ اولاد اختیار کرے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…قرطبی، مریم، تحت الآیۃ: ۸۷، ۶/۶۳، الجزء الحادی عشر۔
2…تفسیرکبیر، مریم، تحت الآیۃ: ۸۸، ۷/۵۶۶۔