ترجمۂکنزالایمان: لوگ شفاعت کے مالک نہیں مگر وہی جنہوں نے رحمن کے پاس قرار کر رکھا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: لوگ شفاعت کے مالک نہیں مگر وہی جس نے رحمن کے پاس عہد لے رکھا ہے۔
{لَا یَمْلِکُوۡنَ الشَّفَاعَۃَ:لوگ شفاعت کے مالک نہیں۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ جسے اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے گناہگاروں کی شفاعت کا اِذن مل چکاہے اس کے علاوہ کوئی بندہ کسی گناہگار کی شفاعت کا مالک نہیں۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ مجرموں میں سے کوئی اس بات کا مالک نہیں کہ اس کی شفاعت کی جائے البتہ ان میں سے جو مسلمان ہے اس کی شفاعت ہوگی۔(1)
اللّٰہ تعالیٰ کے پاس عہد :
یہاں ہم دو ایسے اعمال ذکر کرتے ہیں جنہیں بجا لانے والے بندے کا عہد اللّٰہ تعالیٰ کے پاس رکھ دیا جاتا ہے۔
(1)…حضرت عبادہ بن صامت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض فرمائی ہیں، جس نے انہیں ادا کیا اور ہلکا سمجھ کر ان میں سے کچھ ضائع نہ کیا تو اس کا اللّٰہ تعالیٰ کے پاس عہد ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل فرمائے اور جس نے انہیں ادا نہ کیا تو اس کے لئے اللّٰہ تعالیٰ کے پاس کوئی عہد نہیں، چاہے و ہ اسے عذاب دے یا اسے جنت میں داخل کر دے۔(2)
(2)…حضرت عبداللّٰہ بن مسعودرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اپنے صحابہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْسے یہ کہتے سنا کہ کیا تم اس بات سے عاجز ہوکہ ہرصبح وشام اپنے ربعَزَّوَجَلَّ کے پاس سے ایک عہد لو۔ صحابہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْنے عرض کی: یا رسولَ اللّٰہ !صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، وہ کس طرح ؟ حضور پُرنور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ صبح وشام یہ کہے ’’اَللّٰہُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ، عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ، اِنِّی اَعْہَدُ اِلَیْکَ فِیْ ہٰذِہِ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا بِاَنِّیْ اَشْہَدُ اَنْ لّا اِلٰـہَ اِلاَّ اَنْتَ وَحْدَکَ، لَاشَرِیکَ لَکَ، وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُوْلُکَ،فلَاَ تَکِلْنِیْ اِلٰی نَفْسِیْ فَاِنَّکَ اِنْ تَکِلْنِیْ اِلٰی نَفْسِیْ تُبَاعِدْنِیْ مِنَ الْخَیْرِ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…روح البیان، مریم، تحت الآیۃ: ۸۷، ۵/۳۵۶۔
2…ابو داؤد، کتاب الوتر، باب فیمن لم یوتر، ۲/۸۹، الحدیث: ۱۴۲۰۔