Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
154 - 695
کافروں کی سزا کے بارے میں سن کر مسلمانوں کو بھی ڈرنا چاہئے:
	یاد رہے کہ ایسی آیات جن میں کافروں کی کوئی سزا بیان کی گئی ہو ان میں مسلمانوں کے لئے بھی بڑی عبرت اور نصیحت ہوتی ہے اس لئے ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ جب بھی اس طرح کی آیات پڑھے یا سنے تو اپنے بارے میں اللّٰہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر سے ڈرے اور اپنے ایمان کی حفاظت کی فکر کرے ۔ ایسی آیات سن کر ہمارے بزرگانِ دین کا کیا حال ہوتا تھا اس سے متعلق ایک حکایت ملاحظہ ہو، چنانچہ حضرت مسور بن مخرمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ شدّتِ خوف کی وجہ سے قرآنِ پاک میں کچھ سننے پر قادر نہ تھے ، یہاں تک کہ ان کے سامنے ایک حرف یا کوئی آیت پڑھی جاتی تو وہ چیخ مارتے اور بے ہوش ہوجاتے، پھر کئی دن تک انہیں ہوش نہ آتا۔ ایک دن قبیلہ خثعم کا ایک شخص ان کے سامنے آیا اور اس نے یہ آیات پڑھیں، ’’یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیۡنَ اِلَی الرَّحْمٰنِ وَفْدًا ﴿ۙ۸۵﴾ وَّ نَسُوۡقُ الْمُجْرِمِیۡنَ اِلٰی جَہَنَّمَ وِرْدًا‘‘یاد کرو جس دن ہم پرہیزگاروں کو رحمن کی طرف مہمان بناکرلے جائیں گے ۔ اور مجرموں کو جہنم کی طرف پیاسے ہانکیں گے۔(1) یہ سن کر آپ نے فرمایا ’’آہ! میں مجرموں میں سے ہوں اور متقی لوگوں میں سے نہیں ہوں ، اے قاری ! دوبارہ پڑھو ۔ اس نے پھر پڑھا تو آپ نے ایک نعرہ مارا اور آپ کی روح قَفسِ عُنصری سے پرواز کر گئی۔(2)
آیت’’وَ نَسُوۡقُ الْمُجْرِمِیۡنَ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:
	اس آیت سے دو باتیں معلوم ہوئیں
(1)… کافروں کا دوزخ میں داخلہ انتہائی ذلت ورسوائی سے او ر مومنوں کا جنت میں داخلہ انتہائی عزت و احترام سے ہوگا۔
(2)… کافر میدانِ محشر میں پیاسے ہوں گے۔یاد رہے کہ مومنوں کے لئے حوضِ کوثر کی نہر میدانِ محشرمیں آئے گی جس سے مُرتَدّین روک دئیے جائیں گے، یونہی ہر نبی کے امتیوں کیلئے ان کے نبی کا حوض ہوگا۔ 
لَا یَمْلِکُوۡنَ الشَّفَاعَۃَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنۡدَ الرَّحْمٰنِ عَہۡدًا ﴿ۘ۸۷﴾
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مریم:۸۵،۸۶۔
2…احیاء علوم الدین،کتاب الخوف والرجائ،الشطر الثانی،بیان احوال الصحابۃ والتابعین والسلف الصالحین فی شدّۃ الخوف، ۴/۲۲۷۔