Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
153 - 695
اونٹنیوں پر لایا جائے گا جن کی مثل مخلوق نے دیکھی ہی نہ ہوگی، ان کے کجاوے سونے کے ہوں گے اور ان کی مہاریں زبرجد کی ہوں گی۔پرہیز گار ان پربیٹھے رہیں گے یہاں تک کہ وہ جنت کادروازہ کھٹکھٹائیں گے۔(1)
(2)…حضرت ابوسعید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں: پرہیزگاروں کو ان اونٹنیوں پر سوار کر کے لایا جائے گا جن کے کجاوے زمرد اوریاقوت کے ہوں گے اور جو رنگ وہ چاہیں گے اسی کے ہوں گے۔(2)
(3)…حضرت ربیع رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں: جب پرہیزگار لوگ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے حضور حاضر ہوں گے تو ان کی عزت کی جائے گی، انہیں نعمتیں بخشی جائیں گی، انہیں سلام پیش کیا جائے گا اور ان کی شفاعت قبول کی جائے گی۔(3)
(4)…جامع البیان میں ہے کہ مومن جب قبر سے نکلے گا تو ایک حسین اور خوشبودار صورت اس کااستقبال کرے گی اور مومن سے کہے گی کہ کیا تو مجھے پہچانتا ہے ؟ مومن کہے گا نہیں، بے شک! اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے تجھے بہت پاکیزہ خوشبودی اور تیری بہت حسین صورت بنائی ۔ وہ صورت کہے گی تو بھی دنیا میں اسی طرح تھا، میں تیرا نیک عمل ہوں ،میں دنیا میں بہت عرصہ تک تجھ پر سوار رہا اور آج تومجھ پر سوار ہوجا۔(4)
وَّ نَسُوۡقُ الْمُجْرِمِیۡنَ اِلٰی جَہَنَّمَ وِرْدًا ﴿ۘ۸۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور مجرموں کو جہنم کی طرف ہانکیں گے پیاسے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور مجرموں کو جہنم کی طرف پیاسے ہانکیں گے۔
{وَ نَسُوۡقُ الْمُجْرِمِیۡنَ اِلٰی جَہَنَّمَ:اور مجرموں کو جہنم کی طرف پیاسے ہانکیں گے ۔} قیامت کے دن پرہیزگار مسلمان تو مہمان بنا کر اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جمع کئے جائیں گے جبکہ کافروں کا حال یہ ہو گا کہ انہیں ان کے کفر کی وجہ سے ذلت و توہین کے ساتھ پیاسے جانوروں کی طرح جہنم کی طرف ہانکاجائے گا۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…البعث لابن ابی داؤد، ص۵۲، الحدیث: ۵۶۔
2…درمنثور، مریم، تحت الآیۃ: ۸۵، ۵/۵۳۸۔
3…درمنثور، مریم، تحت الآیۃ: ۸۵، ۵/۵۳۸۔
4…جامع البیان، مریم، تحت الآیۃ: ۸۵، ۸/۳۸۰۔