نہیں کر سکو گے جو تمہیں اللّٰہ تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو اپنے نفس کی فکر کرتا اور اپنے گناہوں پر روتا ہے، پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے یہ آیت پڑھی’’اِنَّمَا نَعُدُّ لَہُمْ عَدًّا‘‘ہم تو ان کیلئے گنتی کررہے ہیں۔ اس سے مراد سانس ہیں اور آخری عدد جان کا نکلنا ہے ،پھر گھر والوں سے جدائی ہے اور قبر میں داخل ہونے کی آخری گھڑی ہے۔(1)
اللّٰہ تعالیٰ ہمیں گناہوں سے بچنے اور نیک اعمال کرنے میں جلدی کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔
یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیۡنَ اِلَی الرَّحْمٰنِ وَفْدًا ﴿ۙ۸۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: جس دن ہم پرہیزگاروں کو رحمن کی طرف لے جائیں گے مہمان بناکر۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یاد کرو جس دن ہم پرہیزگاروں کو رحمن کی طرف مہمان بنا کرلے جائیں گے ۔
{یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیۡنَ:یاد کرو جس دن ہم پرہیزگاروں کو لے جائیں گے۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ اپنی قوم کو ترغیب دینے اور ڈرانے کے طور پر وہ دن یاد دلائیں جس دن ہم پرہیزگاروں اور اطاعت شِعاروں کو ان کے اس رب کی بارگاہ میں مہمان بناکر جمع کریں گے جو اپنی وسیع رحمت کے ساتھ انہیں ڈھانپے ہوئے ہے۔(2)
اہلِ جنت کے اِعزاز و اِکرام سے متعلق4روایات:
اس آیت میں قیامت کے دن اللّٰہ تعالیٰ کے پرہیز گار اور اطاعت گزار بندوں کے اعزاز و اکرام کا ذکر ہوا اور قبروں سے اٹھ کر میدانِ محشر میں جانے ، وہاں ٹھہرنے ،پھر وہاں سے جنت میں جانے کے عرصہ کے دوران ان کے اعزاز واکرام کا ذکر کثیر اَحادیث میں بھی کیا گیا ہے ان میں سے4 روایات درج ذیل ہیں۔
(1)…حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے ، نبی کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: اللّٰہ کی قسم! پرہیزگاروں کوان کے قدموں پرنہیں لایا جائے گا اور نہ ہی انہیں ہانک کر لایا جائے گا بلکہ انہیں جنت کی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…احیاء علوم الدین، کتاب ذکر الموت ومابعدہ ، الباب الثانی فی طول الامل وفضیلۃ قصر الامل۔۔۔ الخ ، بیان المبادرۃ الی العمل وحذر آفۃ التاخیر، ۵/۲۰۵-۲۰۶۔
2…روح البیان، مریم، تحت الآیۃ: ۸۵، ۵/۳۵۶۔