(4)… شیطان کسی کو کفر پرمجبور نہیں کرتا بلکہ کفر پر ابھارتا ہے، اس کے برخلاف انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کے وارث کسی کو ایمان قبول کرنے پر مجبور نہیں کرتے بلکہ وہ بھی صرف انہیں ایمان کی دعوت اور ترغیب دیتے ہیں ۔ اب جوعقل والے ہیں وہ انبیائِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعوت کوقبول کرتے ہیں اور جوشہوت پرست اور نفس کے بندے ہوتے ہیں وہ شیطان کی دعوت کوقبول کرتے ہیں اور کھلم کھلا اللّٰہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے مقابلہ پر تُل جاتے ہیں اور جہنم کی اَبدی سزا کے مستحق ہوجاتے ہیں۔
فَلَا تَعْجَلْ عَلَیۡہِمْ ؕ اِنَّمَا نَعُدُّ لَہُمْ عَدًّا ﴿ۚ۸۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو تم ان پر جلدی نہ کرو ہم تو ان کی گنتی پوری کرتے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو تم ان پر جلدی نہ کرو، ہم تو ان کیلئے گنتی کررہے ہیں۔
{فَلَا تَعْجَلْ عَلَیۡہِمْ:تو تم ان پرجلدی نہ کرو۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ مسلمانوں کو کافروں کے شر سے بچانے اور زمین کو ان کے فساد سے پاک کرنے کی خاطر کافروں کی ہلاکت کی دعا کرنے میں جلدی نہ فرمائیں، ہم تو ان کے لئے گنتی کر رہے ہیں۔
اس سے جزا کے لئے اعمال کی گنتی کرنا مراد ہے یافنا کے لئے سانسوں کی گنتی کرنا، یا دنوں، مہینوں اور برسوں کی وہ مدت گنتی کرنا مراد ہے جو ان کے عذاب کے واسطے مقرر ہے ۔(1)
نیک عمل کرنے میں جلدی کرنی چاہئے:
اس آیت میں کلام اگرچہ کفار کے بارے میں ہے البتہ اس میں مسلمانوں کے لئے بھی یہ نصیحت ہے کہ وہ نیک اعمال کرنے میں تاخیر سے کام نہ لیں بلکہ ان میں جلدی کریں کیونکہ ان کی سانسیں بھی گنی جا رہی ہیں۔ چنانچہ حضرت حسن بصری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُاپنے وعظ میں فرمایا کرتے کہ’’ جلدی کرو جلدی کرو، یہ چند سانس ہیں اگر رک گئے تو تم وہ اعمال
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…روح البیان، مریم، تحت الآیۃ: ۸۴، ۵/۳۵۵، مدارک، مریم، تحت الآیۃ: ۸۴، ص۶۸۳، خازن، مریم، تحت الآیۃ: ۸۴، ۳/۲۴۶، ملتقطاً۔