Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
150 - 695
بے فائدہ بتوں کی پوجا تو کرے اور اس رب تعالیٰ کی عبادت نہ کرے جو خود بھی زندہ ہے اور دوسروں کو زندگی عطا بھی کرتا ہے اور ہر طرح کی ذلت سے بچانے اور عزت عطا کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہے۔
اَلَمْ تَرَ اَنَّـاۤ اَرْسَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ عَلَی الْکٰفِرِیۡنَ تَؤُزُّہُمْ اَزًّا ﴿ۙ۸۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: کیا تم نے نہ دیکھا کہ ہم نے کافروں پر شیطان بھیجے کہ وہ انہیں خوب اچھالتے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا تم نے نہ دیکھا کہ ہم نے کافروں پر شیطان بھیجے کہ وہ انہیں خوب ابھارتے ہیں۔ 
{اَلَمْ تَرَ اَنَّـاۤ اَرْسَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ عَلَی الْکٰفِرِیۡنَ:کیا تم نے نہ دیکھا کہ ہم نے کافروں پر شیطان بھیجے ۔} گزشہ آیاتِ مبارکہ میں اللّٰہ تعالیٰ نے کافروں کی گمراہیوں اور آخرت میں ان کے حسرت ناک انجام کابیان فرمایا اور اب اس کاسبب بیان کیا جا رہا ہے کہ آخر کس وجہ سے وہ حق کے خلاف اس طرح کی باتیں کرتے تھے اور دلائل ہونے کے باوجود سمجھتے نہیں تھے ۔ چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ ہم نے کافروں پر شیطانوں کو چھوڑ دیا اور ان پر شیطانوں کو مُسلَّط کر دیا جو کہ انہیں طرح طرح کے وسوسے دلا کر گناہوں پر خوب ابھارتے ہیں ۔ اس آیت میں نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلی بھی دی گئی ہے کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ اس وجہ سے پریشان نہ ہوں کہ کفار آپ کی دعوت قبول کیوں نہیں کر رہے کیونکہ آپ کی دعوت میں کوئی کمی نہیں بلکہ ان کافروں پر شیطان مُسلَّط ہیں جو انہیں گناہوں پر ابھار رہے ہیں جس کی وجہ سے یہ آپ کی دعوت قبول نہیں کر رہے۔
 آیت’’اَلَمْ تَرَ اَنَّـاۤ اَرْسَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:
	اس آیت سے چار باتیں معلوم ہوئیں:
(1)… بد عملی کی وجہ سے انسان پر شیطان مُسلَّط ہوتا ہے۔
(2)… بر ے ساتھی اللّٰہ تعالیٰ کا عذاب ہیں۔
(3)…بری باتوں کی رغبت دینا شیطان اور شیطانی لوگوں کا کام ہے۔