تعالیٰ کی بجائے بتوں کو اپنا معبود بنالیا اور وہ اس امید پر ان کی عبادت کرنے لگے کہ وہ ان کیلئے سفارشی بن جائیں اور ان کی مدد کریں اور انہیں عذاب سے بچائیں۔(1)
کَلَّا ؕ سَیَکْفُرُوۡنَ بِعِبَادَتِہِمْ وَیَکُوۡنُوۡنَ عَلَیۡہِمْ ضِدًّا ﴿٪۸۲﴾
ترجمۂکنزالایمان: ہرگز نہیں کوئی دم جاتا ہے کہ وہ ان کی بندگی سے منکر ہوں گے اور ان کے مخالف ہوجائیں گے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: ہرگز نہیں! عنقریب وہ (جھوٹے معبود) ان کی عبادت کا انکار کردیں گے اور وہ ان کے مخالف ہو جائیں گے۔
{کَلَّا ؕ سَیَکْفُرُوۡنَ بِعِبَادَتِہِمْ:ہرگز نہیں! عنقریب و ہ ان کی عبادت کا انکار کردیں گے۔}اس آیت میں کافروں کا رد کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا بلکہ عنقریب وہ بت جنہیں یہ پوجتے تھے ان کی عبادت کا انکار کردیں گے اور انہیں جھٹلائیں گے اور ان پر لعنت کریں گے۔ اللّٰہ تعالیٰ انہیں بولنے کی قوت دے گا اور وہ کہیں گے :یارب! انہیں عذاب دے کہ انہوں نے تیرے سوا کسی اور کی عبادت کی ہے۔(2)
کفار کی جاہلانہ اور اَحمقانہ حرکت:
اس سے معلوم ہو اکہ کفار کی یہ انتہا درجے کی جاہلانہ اور احمقانہ حرکت ہے کہ انہوں نے اپنے ہاتھ سے بنائے ہوئے بتوں کوخدا بنالیا اور یہ سمجھنا شروع کردیا کہ ہمارے ہاتھوں سے بنائے ہوئے خدا ہمیں عزت بخشیں گے اور ہمیں نفع دیں گے ، حالانکہ ان کے بنائے ہوئے خدا نہ تو انہیں دنیا میں کسی قسم کانفع اور عزت بخش سکتے ہیں اور نہ آخرت میں بلکہ بروزِ قیامت تو وہ خود ان کی عبادت کے منکر ہوجائیں گے اور کہیں گے کہ ہمیں تمہاری عبادت کی خبر ہی نہیں اور ان کی بندگی سے اپنی براء ت اور بیزاری کا اظہار کردیں گے اور ان کے دشمن بن جائیں گے اور یوں عزت بڑھانے کی بجائے ان کی ذلت اور رسوائی کاسبب بنیں گے ۔ اس انسان پر انتہائی افسوس ہے جو عقل و شعور رکھنے کے باوجود بے جان اور
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، مریم، تحت الآیۃ: ۸۱، ۳/۲۴۶، مدارک، مریم، تحت الآیۃ: ۸۱، ص۶۸۳، ملتقطاً۔
2…خازن، مریم، تحت الآیۃ: ۸۲، ۳/۲۴۶، مدارک، مریم، تحت الآیۃ: ۸۲، ص۶۸۳، ملتقطاً۔