Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
148 - 695
شخص جھوٹا اور بدکار ہے اور جوبات یہ کہہ رہاہے اُسے ہمارے فرشتوں نے لکھ لیا ہے اور قیامت کے دن ہم اسے اس کابدلہ دیں گے اور ہم اسے مال و اولاد کے بدلے خوب لمبا عذاب دیں گے جس کا وہ مستحق ہے اور اس کی ہلاکت کے بعدمال و اولاد سب سے اس کی ملکیت اور اس کا تَصَرُّف اُٹھ جائے گا اور اس کے ہم وارث ہوں گے اور وہ قیامت کے دن ہمارے پاس تنہا اور خالی ہاتھ آئے گا اور آخرت میں دنیا سے زیادہ ملنا تو دور کی بات ، دنیا میں جو مال اور اولاد اس کے ساتھ ہے اُس وقت وہ بھی اس کے ساتھ نہ ہوگا۔(1)
سورۂ مریم کی آیت نمبر 77 تا 80 سے حاصل ہونے والی معلومات:
	ان آیات سے دو باتیں معلوم ہوئیں:
(1)… شریعت کے احکام کا مذاق اڑانا کفار کا طریقہ ہے۔ اس سے وہ لوگ اپنے طرزِ عمل پر غور کر لیں جو حدود و قصاص اور نکاح و طلاق وغیرہ سے متعلق شریعت کے اَحکام کا مذاق اڑاتے اور انہیں انسایت سوزاَحکام ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
(2)… مرنے کے بعد اور قیامت کے دن کفار کا مال و اولاد انہیں کچھ کام نہ آئے گا۔ یاد رہے کہ مومن کامال اور اس کی اولاد کے ساتھ یہ معاملہ نہ ہو گا بلکہ اسے مرنے کے بعد اللّٰہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی خاطر راہِ خدا میں خرچ کیا ہوا مال بھی کام آئے گا اور اس کی نیک اولاد سے بھی اسے فائدہ حاصل ہو گا۔ 
وَاتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللہِ اٰلِہَۃً لِّیَکُوۡنُوۡا لَہُمْ عِزًّا ﴿ۙ۸۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اللّٰہ کے سوا اور خدا بنالئے کہ وہ انہیں زور دیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور انہوں نے اللّٰہ کے سوا کئی اور معبود بنالئے تا کہ وہ ان کیلئے سفارشی بن جائیں۔
{وَاتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللہِ اٰلِہَۃً:اور انہوں نے اللّٰہ کے سوا کئی اور معبود بنالئے ۔} اس سے پہلی آیات میں حشر و نشر کا مسئلہ بیان ہوا اور اب یہاں سے بتوں کے پجاریوں کا رد کیا جا رہا ہے،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ قریش کے مشرکوں نے اللّٰہ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…مدارک، مریم، تحت الآیۃ: ۷۷-۸۰، ص۶۸۲-۶۸۳، خازن، مریم، تحت الآیۃ: ۷۷-۸۰، ۳/۲۴۵-۲۴۶، روح البیان، مریم، تحت الآیۃ: ۷۷-۸۰، ۵/۳۵۴، ملتقطاً۔