Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
135 - 695
{ثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ:پھر ہم انہیں خوب جانتے ہیں۔} یعنی ہم خوب جانتے ہیں کہ کون سا کافر جہنم کے کس طبقہ کے لائق ہے اور کون سا کافر جہنم کے شدید عذاب کا مستحق ہے اور کون سا نہیں اور کسے پہلے جہنم میں پھینکا جائے گا اورکسے بعد میں۔
وَ اِنۡ مِّنۡکُمْ اِلَّا وَارِدُہَا ۚ کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتْمًا مَّقْضِیًّا ﴿ۚ۷۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو تمہارے رب کے ذمہ پر یہ ضرور ٹھہری ہوئی بات ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تم میں سے ہرایک دوزخ پر سے گزرنے والاہے۔یہ تمہارے رب کے ذمہ پر حتمی فیصلہ کی ہوئی بات ہے۔ 
{وَ اِنۡ مِّنۡکُمْ اِلَّا وَارِدُہَا:اور تم میں سے ہرایک دوزخ پر سے گزرنے والاہے۔} اس آیت سے متعلق مفسرین کے مختلف اَقوال ہیں، ان میں سے 3قول درج ذیل ہیں:
(1)… اس آیت میں کافروں سے خطاب ہے( اور جہنم پر وارد ہونے سے مراد جہنم میں داخل ہونا ہے۔)
(2)… اس میں خطاب تمام لوگوں سے ہے اور جہنم پر وارد ہونے سے مراد جہنم میں داخل ہونا ہے البتہ (جنت میں جانے والے) مسلمانوں پر جہنم کی آگ ایسے سرد ہو جائے گی جیسے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر دنیا میں آگ سرد ہوئی تھی اور ان کا یہ داخلہ عذاب پانے کے طور پر نہ ہو گا اور نہ ہی یہ وہاں خوفزدہ ہوں (بلکہ ان کا یہ داخلہ صرف اللّٰہ تعالیٰ کے اس وعدے کی تصدیق کے لئے ہوگا۔)(1)
(3)…علامہ ابوحیان محمد بن یوسف اندلسی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اس آیت میں خطاب عام مخلوق سے ہے (یعنی اس خطاب میں نیک و بد تمام لوگ داخل ہیں) اور جہنم پر وارد ہونے سے (نیک و بد) تمام لوگوں کا جہنم میں داخل ہونا مراد نہیں (بلکہ اس سے مراد جہنم کے اوپر سے گزرنا ہے،جیسا کہ ) حضرت عبداللّٰہ بن مسعود، حضرت حسن اور حضرت قتادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْسے روایت ہے کہ جہنم پر وارد ہونے سے مراد پل صراط پر سے گزرنا ہے جو کہ جہنم کے او پر بچھایا گیا ہے۔(2)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تاویلات اہل السنہ، مریم، تحت الآیۃ: ۷۱، ۳/۲۷۴-۲۷۵۔
2…البحر المحیط، مریم، تحت الآیۃ: ۷۱، ۶/۱۹۷۔