Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
136 - 695
{کَانَ عَلٰی رَبِّکَ حَتْمًا مَّقْضِیًّا: یہ تمہارے رب کے ذمہ پر حتمی فیصلہ کی ہوئی بات ہے۔} یعنی جہنم پر وارد ہونا اللّٰہ تعالیٰ کا وہ حتمی فیصلہ ہے جو اس نے اپنے تمام بندوں پر لازم کیا ہے۔
پل صراط سے متعلق چند اہم باتیں:
	اس آیت کی تفسیر میںپل صراط سے گزرنے کا بھی ذکر ہوا، اس مناسبت سے یہاں پل صراط سے متعلق چند اہم باتیں ملاحظہ ہوں، چنانچہ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں ’’صراط حق ہے ۔یہ ایک پل ہے کہ پشتِ جہنم پر نصب کیا جائے گا۔ بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہوگا ۔ جنت میں جانے کا یہی راستہ ہے۔ سب سے پہلے نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہ وَسَلَّمَ گزر فرمائیں گے، پھر اور اَنبیا و مُرسَلین، پھر یہ اُمت پھر اور اُمتیں گزریں گی  اور حسبِ اِختلافِ اعمال پل صراط پر لوگ مختلف طرح سے گزریں گے، بعض تو ایسے تیزی کے ساتھ گزریں گے جیسے بجلی کا کوندا کہ ابھی چمکا اور ابھی غائب ہوگیا اور بعض تیز ہوا کی طرح، کوئی ایسے جیسے پرند اڑتا ہے اور بعض جیسے گھوڑا دوڑتا ہے اور بعض جیسے آدمی دوڑتا ہے، یہاں تک کہ بعض شخص سرین پر گھسٹتے ہوئے اور کوئی چیونٹی کی چال جائے گا اور پل صراط کے دونوں جانب بڑے بڑے آنکڑے (اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ) ہی جانے کہ وہ کتنے بڑے ہونگے) لٹکتے ہوں گے، جس شخص کے بارے میں حکم ہوگا اُسے پکڑلیں گے، مگر بعض تو زخمی ہو کرنجات پا جائیں گے اور بعض کو جہنم میں گرا دیں گے   اور یہ ہلاک ہوا۔ یہ تمام اہلِ محشر تو پل پر سے گزرنے میں مشغول، مگر وہ بے گناہ، گناہگاروں کا شفیع پل کے کنارے کھڑا ہوا بکمالِ گریہ وزاری اپنی اُمتِ عاصی کی نجات کی فکر میں اپنے رب سے دُعا کر رہا ہے: ’’رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ‘‘ اِلٰہی! ان گناہگاروں کو بچالے بچالے۔ اور ایک اسی جگہ کیا! حضور (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) اُس دن تمام مواطن میں دورہ فرماتے رہیں گے، کبھی میزان پر تشریف لے جائیں گے، وہاں جس کے حسنات میں کمی دیکھیں گے، اس کی شفاعت فرما کر نجات دلوائیں گے اور فوراً ہی دیکھو تو حوضِ کوثر پر جلوہ فرما ہیں ، پیاسوں کو سیراب فرما رہے ہیں اور وہاں سے پل پر رونق افروز ہوئے اور گرتوں کو بچایا۔ غرض ہر جگہ اُنھیں کی دوہائی، ہر شخص اُنھیں کو پکارتا، اُنھیں سے فریاد کرتا ہے اور اُن کے سوا کس کوپکارے۔۔۔؟! کہ ہر ایک تو اپنی فکر میں ہے، دوسروں کو کیا پوچھے، صرف ایک یہی ہیں، جنہیں اپنی کچھ فکر نہیں اور تمام عالَم کا بار اِن کے ذمے۔(1)
	اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِاس وقت کی منظر کَشی کرتے ہوئے کیا خوب فرماتے ہیں:
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…بہار شریعت، حصہ اول، معاد وحشر کا بیان، ۱/۱۴۷-۱۴۹۔