Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
134 - 695
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر ہم ہر گروہ سے اسے نکالیں گے جو ان میں رحمن پر سب سے زیادہ بے باک ہوگا۔ پھر ہم انہیں خوب جانتے ہیں جو آگ میں جلنے کے زیادہ لائق ہیں۔
{ثُمَّ لَنَنۡزِعَنَّ مِنۡ کُلِّ شِیۡعَۃٍ:پھر ہم ہر گروہ سے اسے نکالیں گے۔} ارشاد فرمایا کہ جہنم کے آس پاس کفار کو جمع کرنے کے بعد ہم کفار کے ہر گروہ سے اسے نکالیں گے جو ان میں رحمن کی نافرمانی کرنے پر سب سے زیادہ بے باک ہوگا تاکہ جہنم میں سب سے پہلے اُسے داخل کیا جائے جو سب سے زیادہ سرکش اور کفر میں زیادہ شدید ہو اور بعض روایات میں ہے کہ کفار سب کے سب جہنم کے گرد زنجیروں میں جکڑے طوق ڈالے ہوئے حاضر کئے جائیں گے پھر جو کفر و سرکشی میں زیادہ سخت ہوں گے وہ پہلے جہنم میں داخل کئے جائیں گے اور انہیں باقی کافروں کے مقابلے میں عذاب بھی زیادہ سخت ہوگا۔(1)
کفار کے عذاب میں فرق ہو گا:
	یاد رہے کہ کفر اگرچہ یکساں ہے کہ ’’اَلکُفْرُ مِلَّۃٌ وَاحِدَۃٌ‘‘ یعنی کفر ایک ہی ملت ہے، مگر کفار مختلف قسم کے ہیں کہ بعض ان میں سے وہ ہیں جو خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا اور بعض وہ ہیں جو کسی کی پیروی کر کے گمراہ ہوئے تو ان میں ہر قسم کے کافر کو اس قسم کا عذاب ہو گا جس کا وہ مستحق ہے جیسے گمراہ گَر کافروں کو پیروی کرنے والے کفار کے مقابلے میں دگنا عذاب ہو گا،چنانچہ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
’’اَلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِ اللہِ زِدْنٰہُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا کَانُوۡا یُفْسِدُوۡنَ‘‘(2)
ترجمۂکنزُالعِرفان: جنہوں نے کفر کیا اور اللّٰہ کی راہ سے روکا ہم ان کے فساد کے بدلے میں عذاب پر عذاب کا اضافہ کردیں گے۔
	اور ارشاد فرماتا ہے
’’وَ لَیَحْمِلُنَّ اَثْقَالَہُمْ وَاَثْقَالًا مَّعَ اَثْقَالِہِمْ‘‘ (3)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک ضرور اپنے بوجھ اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور بوجھ اٹھائیں گے ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، مریم، تحت الآیۃ: ۶۹، ۳/۲۴۲۔
2…نحل: ۸۸۔
3…عنکبوت:۱۳۔