اَیۡدِیۡہِمْ وَ مَا خَلْفَہُمْ وَ حَقَّ عَلَیۡہِمُ الْقَوْلُ فِیۡۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنۡ قَبْلِہِمۡ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنۡسِ ۚ اِنَّہُمْ کَانُوۡا خٰسِرِیۡنَ‘‘(1)
دئیے توانہوں نے ان کے لئے ان کے آگے اور ان کے پیچھے کو خوبصورت بنا دیا۔ ان پر بات پوری ہوگئی جو ان سے پہلے گزرے ہوئے جنوں اور انسانوں کے گروہوں پرثابت ہوچکی ہے۔ بیشکوہ نقصان اٹھانے والے تھے۔
حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جب اللّٰہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ شر کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کی موت سے ایک سال پہلے اس پر ایک شیطان مقرر کر دیتا ہے تو وہ جب بھی کسی نیک کام کو دیکھتا ہے وہ اسے برا معلوم ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اس پر عمل نہیں کرتا اور جب بھی وہ کسی برے کام کو دیکھتا ہے تو وہ اسے اچھا معلوم ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اس پر عمل کرلیتا ہے۔(2)
اس میں خاص طور پر کفار اور عمومی طور پرتمام مسلمانوں کے لئے نصیحت ہے کہ وہ ایسے کام کرنے سے بچیں جن کی وجہ سے شیطان کو ان کا ساتھی بنا دیا جائے کیونکہ شیطان انتہائی برا ساتھی ہے جیساکہ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
’’وَمَنۡ یَّکُنِ الشَّیۡطٰنُ لَہٗ قَرِیۡنًا فَسَآءَ قَرِیۡنًا‘‘(3)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جس کا ساتھی شیطان بن جائے تو کتنا برا ساتھی ہوگیا۔
اور جس کا ساتھی شیطان ہو وہ اپنے انجام پر خود ہی غور کرلے کہ کیساہو گا۔
ثُمَّ لَنَنۡزِعَنَّ مِنۡ کُلِّ شِیۡعَۃٍ اَیُّہُمْ اَشَدُّ عَلَی الرَّحْمٰنِ عِتِیًّا ﴿ۚ۶۹﴾ ثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بِالَّذِیۡنَ ہُمْ اَوْلٰی بِہَا صِلِیًّا ﴿۷۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: پھر ہم ہر گروہ سے نکالیں گے جو ان میں رحمن پر سب سے زیادہ بے باک ہوگا۔ پھر ہم خوب جانتے ہیں جو اس آگ میں بھوننے کے زیادہ لائق ہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…حم السجدہ:۲۵۔
2…مسند الفردوس، باب الالف، ۱/۲۴۵، الحدیث: ۹۴۸۔
3…النساء:۳۸۔