’’(یہ بات) آدمی کے اسلام کے حسن سے ہے کہ وہ لایعنی چیز کو چھوڑ دے۔(1)اللّٰہ تعالیٰ ہمیں بیکار باتوں اور فضول کلام سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
تِلْکَ الْجَنَّۃُ الَّتِیۡ نُوۡرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنۡ کَانَ تَقِیًّا ﴿۶۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: یہ وہ باغ ہے جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اسے کریں گے جو پرہیزگار ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یہ وہ باغ ہے جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اسے کریں گے جو پرہیزگار ہو۔
{تِلْکَ الْجَنَّۃُ:یہ وہ باغ ہے۔} یعنی جس جنت کے اوصاف بیان ہوئے یہ وہ باغ ہے جوہم اپنے ان بندوں کو عطا کریں گے جو پرہیزگار ہو۔ اس آیت کی تفسیر میںایک قول یہ بھی ہے کہ ہم نے جنت میں کفار کے ایمان لانے کی صورت میں ان کے لئے جو مکانات تیار کئے ہیں ان کا وارث ہم اپنے پرہیزگار بندوں کو کریں گے۔(2) یاد رہے کہ جنت متقی اور پرہیز گار مسلمان کو ملے گی اور گناہگار مسلمانوں کوبھی جو جنت ملے گی وہ ان کے گناہوں کی معافی یا خاتمے کے بعد ہی ملے گی یعنی جنت میں داخل ہوتے وقت وہ بھی گناہوں سے پاک ہوچکے ہوں گے۔
وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّکَ ۚ لَہٗ مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡنَا وَمَا خَلْفَنَا وَمَا بَیۡنَ ذٰلِکَ ۚ وَمَا کَانَ رَبُّکَ نَسِیًّا ﴿ۚ۶۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: (اور جبریل نے محبوب سے عرض کی) ہم فرشتے نہیں اُترتے مگر حضور کے رب کے حکم سے اسی کا ہے جو ہمارے آگے ہے اور جو ہمارے پیچھے اور جو اس کے درمیان ہے اور حضور کا رب بھولنے والا نہیں ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…ترمذی، کتاب الزہد، ۱۱-باب، ۴/۱۴۲، الحدیث: ۲۳۲۵۔
2…روح البیان، مریم، تحت الآیۃ: ۶۳، ۵/۳۴۶، خازن، مریم، تحت الآیۃ: ۶۳، ۳/۲۴۰، ملتقطاً۔