Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
126 - 695
{لَا یَسْمَعُوۡنَ فِیۡہَا لَغْوًا:وہ ان باغات میں کوئی بیکار بات نہ سنیں گے۔}یعنی جن باغات کا اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے وعدہ فرمایا ہے ان کا وصف یہ ہے کہ جنتی ان باغات میں کوئی بیکار بات نہ سنیں گے ،البتہ وہ فرشتوں کا یا آپس میں ایک دوسرے کا سلام سنیں گے اور ان کیلئے جنت میں صبح و شام ان کا رزق ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جنت میں انہیں دائمی طور پر رزق ملے گا کیونکہ جنت میں رات اور دن نہیں ہیں بلکہ اہلِ جنت ہمیشہ نور ہی میں رہیں گے ۔یا اس سے مراد یہ ہے کہ دنیا کے دن کی مقدار میں دو مرتبہ جنتی نعمتیں ان کے سامنے پیش کی جائیں گی(البتہ وہ خود جس وقت جتنا چاہیں گے کھائیں گے،ان پر کوئی پابندی نہ ہوگی)۔(1)
 بیکار باتوں سے پرہیز کریں:
	اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی عظیم الشان نعمتو ں کے گھر جنت کو فضول اور بیکار باتوں سے پاک فرمایا ہے ،اس سے معلوم ہوا دنیا میں رہتے ہوئے بھی ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ بیکار باتوں سے بچتا رہے اور فضول کلام سے پرہیز کرے۔ اللّٰہ تعالیٰ کامل ایمان والوں کا وصف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:
’’وَ اِذَا مَرُّوۡا بِاللَّغْوِ مَرُّوۡا کِرَامًا‘‘(2)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب کسی بیہودہ بات کے پاس سےگزرتے ہیں تواپنی عزت سنبھالتے ہوئے گزر جاتے ہیں ۔
	اور ارشاد فرماتا ہے
’’وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوۡا عَنْہُ وَ قَالُوۡا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَلَکُمْ اَعْمَالُکُمْ ۫ سَلٰمٌ عَلَیۡکُمْ ۫ لَا نَبْتَغِی الْجٰہِلِیۡنَ‘‘(3)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب بیہودہ بات سنتے ہیں اس سے منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں: ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیںاور تمہارے لیے تمہارے اعمال ہیں۔ بس تمہیں سلام، ہم جاہلوں(کی دوستی)کو نہیں چاہتے ۔
	حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…روح البیان، مریم، تحت الآیۃ: ۶۲، ۵/۳۴۵۔
2…فرقان:۷۲۔
3…قصص:۵۵۔