جہنم کی وادی ’’غی ‘‘کا تعارف:
حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں: غی جہنم میں ایک وادی ہے جس کی گرمی سے جہنم کی وادیاں بھی پناہ مانگتی ہیں ۔یہ اُن لوگوں کے لئے ہے جو زنا کے عادی اور اس پر مُصِر ہوں ، جو شراب کے عادی ہوں، جو سود خور اور سود کے عادی ہوں، جو والدین کی نافرمانی کرنے والے ہوں اور جو جھوٹی گواہی دینے والے ہوں۔(1)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں: غی جہنم میں ایک وادی ہے ،جس کی گرمی اور گہرائی سب سے زیادہ ہے، اس میں ایک کنواں ہے، جس کا نام ’’ہَبْہَبْ‘‘ ہے، جب جہنم کی آگ بجھنے پر آتی ہے، اللّٰہعَزَّوَجَلَّ اس کنویں کو کھول دیتا ہے ،جس سے و ہ بدستور بھڑکنے لگتی ہے۔ قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی: (اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا)
’’خَبَتْ زِدْنٰہُمْ سَعِیۡرًا ‘‘
جب بجھنے پر آئے گی ہم انھیں اور بھڑک زیادہ کریں گے۔‘‘
یہ کنواں بے نمازوں اور زانیوں اور شرابیوں اور سود خواروں اور ماں باپ کو اِیذا دینے والوں کے لیے ہے۔(2)
اِلَّا مَنۡ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صٰلِحًا فَاُولٰٓئِکَ یَدْخُلُوۡنَ الْجَنَّۃَ وَ لَا یُظْلَمُوۡنَ شَیْـًٔا ﴿ۙ۶۰﴾
ترجمۂکنزالایمان: مگر جو تائب ہوئے اور ایمان لائے اور اچھے کام کئے تو یہ لوگ جنت میں جائیں گے اور انہیں کچھ نقصان نہ دیا جائے گا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: مگر جنہوں نے توبہ کی اور ایمان لائے اور نیک کام کئے تو یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر کوئی زیادتی نہیں کی جائے گی۔
{اِلَّا مَنۡ تَابَ:مگر جنہوں نے توبہ کی۔} ارشاد فرمایا کہ نمازیں ضائع کرنے اور اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت کی بجائے گناہوں
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…بغوی، مریم، تحت الآیۃ: ۵۹، ۳/۱۶۸۔
2…بہار شریعت، حصہ سوم، نماز کا بیان، ۱/۴۳۴۔