فَخَلَفَ مِنۡۢ بَعْدِہِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوۃَ وَاتَّبَعُوا الشَّہَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا ﴿ۙ۵۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: تو ان کے بعد ان کی جگہ وہ ناخلف آئے جنہوں نے نمازیں گنوائیں اور اپنی خواہشوں کے پیچھے ہوئے تو عنقریب وہ دوزخ میں غی کا جنگل پائیں گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو ان کے بعد وہ نالائق لو گ ان کی جگہ آئے جنہوں نے نمازوں کو ضائع کیا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی تو عنقریب وہ جہنم کی خوفناک وادی غی سے جاملیں گے۔
{فَخَلَفَ مِنۡۢ بَعْدِہِمْ خَلْفٌ:تو ان کے بعد وہ نالائق لو گ ان کی جگہ آئے ۔} اس آیت میں انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے بعد آنے والے ناخلف اور نالائق لوگوں کی دو خرابیاں بیان کی گئی ہیں۔ (1)… انہوں نے نمازیں ضائع کیں۔ اس سے مراد فرض نمازیں چھوڑ دینا یا نماز کا وقت گزار کر نماز پڑھنا مراد ہے، مثلاً ظہر کی نماز عصر میں اور عصر کی مغرب میں پڑھنا۔ (2)…اپنی خواہشوں کی پیروی کی۔ یعنی انہوں نے اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت پر اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کو ترجیح دی اور اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے کی بجائے گناہوں کو اختیار کیا۔(1)ایسے لوگوں کے بارے میں حضرت عبداللّٰہ بن مسعودرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’اللّٰہ تعالیٰ نے مجھ سے پہلے جس امت میں بھی جو نبی بھیجا اس نبی کے لئے اس امت میں سے کچھ مدد گار اور اصحاب ہوتے تھے جو اپنے نبی کے طریقۂ کار پر کار بند رہتے، پھر ان صحابہ کے بعد کچھ نالائق لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے اپنے کام کے خلاف بات کی اور جس کا حکم دیاگیا اس کے خلاف کام کیا لہٰذا جس شخص نے ہاتھوں سے ان کے خلاف جہاد کیا وہ مومن ہے، اور جس نے ان کے خلاف زبان سے جہاد کیا وہ مومن ہے،اور جس نے دل سے ان کے خلاف جہاد کیا وہ بھی مومن ہے اور ا س کے بعد رائی کے دانہ برابر بھی ایمان کا کوئی درجہ نہیں۔(2)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، مریم، تحت الآیۃ: ۵۹، ۳/۲۴۰۔
2…مسلم، کتاب الایمان، باب بیان کون النہی عن المنکر من الایمان۔۔۔ الخ، ص۴۴، الحدیث: ۸۰(۵۰)۔