Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
121 - 695
	 اس لئے ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ جب بھی قرآنِ مجید کی تلاوت کرے تو اپنے گناہوں اور اللّٰہ تعالیٰ کی گرفت و عذاب کو یاد کر کے رویا کرے اور اگر اسے رونا نہ آئے تو رونے والوں جیسی صورت بنا لے۔
سجدہ تو کر لیا مگر آنسو نہ نکلے:
	 یاد رہے کہ زیرِ تفسیر آیت ان آیات میں سے ہے جنہیں پڑھنے اور سننے والے پر سجدۂ تلاوت کرنا واجب ہے۔ یہاں اسی آیت سے متعلق دوحکایات ملاحظہ ہوں:
(1)… حضرت ابو معمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں: امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے سورۂ مریم کی تلاوت اور (سجدہ کرنے کے بعد) فرمایا ’’یہ سجدے ہیں تو رونا کہا ں ہے؟(1)
(2)…حضرت عبد الرحمن بن ابو لیلیٰ رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے سورۂ مریم کی تلاوت کی، جب وہ اللّٰہ تعالیٰ کے اس فرمان ’’خَرُّوۡا سُجَّدًا وَّ بُکِیًّا‘‘ پر پہنچے تو انہوں نے سجدۂ تلاوت کیا اور جب سجدے سے سر اٹھایا تو فرمایا ’’یہ سجدہ ہے تورونا کہاں ہے؟(2) ان بزرگوں کے اس قول سے یہ بھی مراد ہو سکتا ہے کہ سجدہ کر کے رونے والے لوگ اب کہاں ہیں؟ اب تو لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ سجدہ تو کرلیتے ہیں لیکن ان کی آنکھیںآنسوؤں سے تر نہیں ہوتیں۔ ان بزرگوں کے یہ فرمان دراصل ہماری تربیت اور اِصلاح کے لئے ہیں ،اے کاش! ہمیں بھی تلاوتِ قرآن کے وقت اللّٰہ تعالیٰ کے خوف سے رونا نصیب ہو جائے۔
آیت’’اِذَا تُتْلٰی عَلَیۡہِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:
 	اس سے تین باتیں معلوم ہوئیں:
(1)… اللّٰہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت کرنا اور تلاوت کرا کر سننا دونوں ہی پسندیدہ طریقے ہیں۔
(2)…اللّٰہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت خشوع و خضوع کے ساتھ کرنا اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پسندیدہ ہے ۔
(3)…اللّٰہ تعالیٰ کے کلام کو پڑھ یا سن کر عذاب کے خوف یا دل کے ذوق کی وجہ سے گریہ و زاری کرنا اللّٰہ تعالیٰ کو پسند ہے اور اس کے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…شعب الایمان، التاسع عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ، فصل فی البکاء عند قراء تہ، ۲/۳۶۵، الحدیث:  ۲۰۵۹۔
2…شرح البخاری لابن بطال، کتاب فضائل القرآن، باب البکاء عند قراء ۃ القرآن، ۱۰/۲۸۲۔