رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے حضرت عبداللّٰہ بن مسعودرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے فرمایا ’’مجھے قرآن پاک سناؤ۔انہوں نے عرض کی: میں (کس طرح) آپ کو قرآن مجید سناؤں حالانکہ آپ پر قرآن مجید نازل ہوا ہے۔ ارشاد فرمایا ’’ میں ا س بات کو پسند کرتا ہوں کہ میں کسی اور سے قرآن کریم سنوں ۔ راوی کہتے ہیں: پھر انہوں نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکوسورۂ نساء کی ابتدائی آیات سنائیں اور جب اس آیت پر پہنچے
’’فَکَیۡفَ اِذَا جِئْنَا مِنۡ کُلِّ اُمَّۃٍۭ بِشَہِیۡدٍ وَّجِئْنَا بِکَ عَلٰی ہٰۤؤُلَآءِ شَہِیۡدًا‘‘(1)
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو کیسا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سےایک گواہ لائیں گے اور اے حبیب! تمہیں ان سب پر گواہ اورنگہبان بناکر لائیں گے۔
تو سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مبارک آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔(2)
نیز قرآن کریم کی آیات سن کر رونا عارفین کی صفت اور صالحین کا شِعار ہے ،جیساکہ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
’’اِذَا یُتْلٰی عَلَیۡہِمْ یَخِرُّوۡنَ لِلۡاَذْقَانِ سُجَّدًا ﴿۱۰۷﴾ۙ وَّ یَقُوۡلُوۡنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنۡ کَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوۡلًا ﴿۱۰۸﴾ وَیَخِرُّوۡنَ لِلۡاَذْقَانِ یَبْکُوۡنَ وَیَزِیۡدُہُمْ خُشُوۡعًا ﴿۱۰۹﴾ٛ‘‘(3)
ترجمۂکنزُالعِرفان: جب ان کے سامنے اس کی تلاوت کی جاتیہے تو وہ ٹھوڑی کے بل سجدہ میں گر پڑتے ہیں۔ اور کہتے ہیں ہمارا رب پاک ہے، بیشک ہمارے رب کا وعدہ پوراہونے والا تھا۔ اور وہ روتے ہوئے ٹھوڑی کے بل گرتے ہیں اور یہ قرآن ان کےدلوں کے جھکنے کو اور بڑھادیتا ہے۔
(یہ آیت ِسجدہ ہے،اسے زبان سے پڑھنے اور سننے والے پر سجدۂ تلاوت کرنا واجب ہے۔)
اور حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے بھی اپنی امت کو اس کی تعلیم دی ہے، جیسا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’یہ قرآن غم کے ساتھ نازل ہوا تھا، جب تم اسے پڑھو تو روؤ اور اگر رو نہ سکو تو رونے کی شکل بنا لو۔(4)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…النساء:۴۱۔
2…مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا، باب فضل استماع القرآن۔۔۔ الخ، ص۴۰۱، الحدیث: ۲۴۸(۸۰۰)۔
3…بنی اسرائیل:۱۰۷-۱۰۹۔
4…ابن ماجہ، کتاب اقامۃ الصلاۃ والسنّۃ فیہا، باب فی حسن الصوت بالقرآن، ۲/۱۲۹، الحدیث: ۱۳۳۷۔