حضرت ابوسعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ آٹھ ماہ تک حضرت علی کَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے دروازے پرصبح کی نماز کے وقت تشریف لاتے رہے اور فرماتے ’’اَلصَّلَاۃُ رَحِمَکُمُ اللّٰہُ، اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُـذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَہْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَہِّرَکُمْ تَطْہِیْرًا‘‘ نماز پڑھو،اللّٰہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے، اللّٰہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک کرکے خوب صاف ستھرا کر دے۔(1)
اہلِ خانہ کو نماز کا حکم دینے کی ترغیب:
معلوم ہوا کہ اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دینا اللّٰہ تعالیٰ کے انبیائِ کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت ہے لہٰذا ہمیں بھی چاہئے کہ ہم اپنے گھر والوں کو نماز قائم کرنے کا حکم دیں اور اس کے علاوہ ان تمام کا موں کا بھی حکم دیں جو جہنم سے نجات ملنے کاسبب ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
’’یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قُوۡۤا اَنۡفُسَکُمْ وَ اَہۡلِیۡکُمْ نَارًا وَّ قُوۡدُہَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَۃُ عَلَیۡہَا مَلٰٓئِکَۃٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوۡنَ اللہَ مَاۤ اَمَرَہُمْ وَ یَفْعَلُوۡنَ مَا یُؤْمَرُوۡنَ ‘‘(2)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اے ایمان والو!اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کواس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں ، اس پر سختی کرنے والے، طاقتور فرشتے مقرر ہیں جو اللّٰہ کے حکم کی نافرمانینہیں کرتے اور وہی کرتے ہیںجو انہیں حکم دیا جاتا ہے۔
نمازِ فجر کے لئے جگانے کی فضیلت:
نمازِ فجر کے لئے جگانا حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی سنت ہے ،چنانچہ حضرت ابو بکرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں، میں سرکارِ دو عالَمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ نمازِفجر کیلئے نکلا تو آپ جس سوتے ہوئے شخص کے پاس سے گزرتے اُسے نماز کیلئے آواز دیتے یا اپنے پاؤں مبارک سے ہلا دیتے۔(3) لہٰذا جو خوش نصیب انسان کسی کو فجر کی نماز کے لئے جگاتا ہے تو وہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اِس ادا کو ادا کررہا ہے۔
وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ اِدْرِیۡسَ ۫ اِنَّہٗ کَانَ صِدِّیۡقًا نَّبِیًّا ﴿٭ۙ۵۶﴾
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…ابن عساکر، حرف العین، حرف الطاء فی آباء من اسمہ علی، علی بن ابی طالب۔۔۔ الخ، ۴۲/۱۳۶۔
2…تحریم:۶۔
3…ابوداؤد، کتاب التطوّع، باب الاضطجاع، ۲/۳۳، الحدیث: ۱۲۶۴۔