بن ابو الحمساء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں: بِعْثَت سے پہلے میں نے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کوئی چیز خریدی اور اس کی کچھ قیمت میری طرف باقی رہ گئی تھی۔ میں نے وعدہ کیا کہ اسی جگہ لاکر دیتا ہوں، میں بھول گیا اور تین دن کے بعد یاد آیا، میں گیا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اسی جگہ موجود تھے۔ ارشاد فرمایا ’’اے نوجوان! تو نے مجھے تکلیف دی ہے، میں تین دن سے یہاں تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔(1)
وَکَانَ یاۡمُرُ اَہۡلَہٗ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ ۪ وَکَانَ عِنۡدَ رَبِّہٖ مَرْضِیًّا ﴿۵۵﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتا اور اپنے رب کو پسند تھا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتاتھا اوروہ اپنے رب کے ہاں بڑا پسندیدہ بندہ تھا۔
{وَکَانَ یاۡمُرُ اَہۡلَہٗ بِالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِ:اور وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتاتھا ۔} ارشاد فرمایا کہ حضرت اسماعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے گھر والوں اور اپنی قوم جرہم کو جن کی طرف آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مبعوث تھے نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیتے تھے اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنی طاعت و اَعمال ،صبر و اِستقلال اور اَحوال و خِصال کی وجہ سے اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ کے بڑے پسندیدہ بندے تھے۔
اہلِ خانہ کو نماز کی تلقین کرنے میں نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی سیرت:
سیّد المرسَلینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمختلف مَواقع پر اپنے اہلِ خانہ کو نماز وغیرہ کی تلقین فرمایا کرتے تھے، چنانچہ حضرت عبداللّٰہ بن سلام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’جب حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے اہل ِخانہ پر کوئی تنگی آتی تو آپ انہیں نماز پڑھنے کا حکم ارشاد فرماتے۔(2)
حضرت ثابت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں: جب حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے اہلِ خانہ کو کوئی حاجت پہنچتی تو آپ اپنے اہلِ خانہ کو ندا فرماتے: اے اہلِ خانہ! نماز پڑھو ،نماز پڑھو۔(3)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…ابوداؤد، کتاب الادب، باب فی العدۃ، ۴/۴۸۸، الحدیث: ۴۹۹۶۔
2…معجم الاوسط، باب الالف، من اسمہ: احمد، ۱/۲۵۸، الحدیث: ۸۸۶۔
3…الزہد لابن حنبل، ص۳۵، الحدیث: ۴۹۔