Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
113 - 695
رَسُوۡلًا نَّبِیًّا ﴿ۚ۵۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور کتاب میں اسمٰعیل کو یاد کرو بیشک وہ وعدے کا سچا تھا اور رسول تھا غیب کی خبریں بتاتا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور کتاب میں اسماعیل کو یاد کرو بیشک وہ وعدے کا سچا تھا اور غیب کی خبریں دینے والارسول تھا۔
{وَ اذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ اِسْمٰعِیۡلَ:اور کتاب میں اسماعیل کو یاد کرو۔} حضرت اسماعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے فرزند ہیں اور سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَآپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی اولاد سے ہیں۔ اس آیت میں حضرت اسماعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دو وصف بیان کئے گئے۔
(1)… آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وعدے کے سچے تھے ۔ یاد رہے کہ تمام انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاموعدے کے سچے ہی ہوتے ہیں مگرآپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا خصوصی طور پر ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس وصف میں بہت زیادہ ممتاز تھے ،چنانچہ ایک مرتبہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کوکوئی شخص کہہ گیا جب تک میں نہیں آتا آپ یہیں ٹھہریں توآپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس کے انتظار میں 3دن تک وہیں ٹھہرے رہے۔ اسی طرح (جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام آپ کو اللّٰہ تعالیٰ کے حکم سے ذبح کرنے لگے تو) ذبح کے وقت آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے صبر کرنے کا وعدہ فرمایا تھا، اس وعدے کو جس شان سے پورا فرمایا اُس کی مثال نہیں ملتی۔(1)
(2)…آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامغیب کی خبریں دینے والے رسول تھے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کورسول اور نبی فرمایا گیا ہے، اس میں بنی اسرائیل کے ان لوگوں کی تردید کرنا مقصود تھا جویہ سمجھتے تھے کہ نبوت صرف حضرت اسحاقعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لیے ہے اور حضرت اسماعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نبی نہیں ہیں۔ 
رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی وعدہ وفائی
	اوپر بیان ہو اکہ حضرت اسماعیل کسی جگہ پر 3دن تک ایک شخص کے انتظار میں ٹھہرے رہے،اسی طرح کا ایک واقعہ سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بارے میں بھی اَحادیث کی کتابوں میں موجود ہے، چنانچہ حضرت عبداللّٰہ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، مریم، تحت الآیۃ: ۵۴، ۳/۲۳۸۔