Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
112 - 695
’’فَاَوْحٰۤی اِلٰی عَبْدِہٖ مَاۤ اَوْحٰی‘‘(1)
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر اس نے اپنے بندے کو وحی فرمائی جو اسنے وحی فرمائی۔
وَ وَہَبْنَا لَہٗ مِنۡ رَّحْمَتِنَاۤ اَخَاہُ ہٰرُوۡنَ نَبِیًّا ﴿۵۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور اپنی رحمت سے اسے اس کا بھائی ہارون عطا کیا غیب کی خبریں بتانے والا (نبی)۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم نے اپنی رحمت سے اسے اس کا بھائی ہارون بھی دیا جونبی تھا۔ 
{وَ وَہَبْنَا لَہٗ مِنۡ رَّحْمَتِنَاۤ اَخَاہُ ہٰرُوۡنَ نَبِیًّا:اورہم نے اپنی رحمت سے اسے اس کا بھائی ہارون بھی دیا جونبی تھا۔} یعنی جب حضر ت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اللّٰہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میرے گھر والوں میں سے میرے بھائی ہارون کو میرا وزیر بنا تو اللّٰہ تعالیٰ نے ان کی یہ دعا قبول فرمائی اور اپنی رحمت سے حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو نبوت عطا کی۔(2)
آیت’’وَ وَہَبْنَا لَہٗ مِنۡ رَّحْمَتِنَاۤ‘‘ سے حاصل ہونے و الی معلومات:
	اس آیت سے دو باتیں معلوم ہوئیں
(1)… نبوت کسبی نہیں یعنی اپنی کوشش سے کسی کو نبوت نہیں مل سکتی بلکہ یہ اللّٰہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے جسے اللّٰہ تعالیٰ چاہے صرف اسے ملتی ہے ۔
(2)…حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قرب کاایسا مقام حاصل ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے ان کی دعا کے صدقے ان کے بھائی حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو نبوت عطافرما دی۔اس سے اللّٰہ تعالیٰ کے پیاروں کی عظمت کا پتہ لگا کہ ان کی دعا سے وہ نعمت ملتی ہے جو بادشاہوں کے خزانوں میں نہ ہو تو اگر ان کی دعا سے اولاد یا دنیا کی دیگر نعمتیں مل جائیں تو کیا مشکل ہے۔البتہ اب ختمِ نبوت ہوچکی تو اب کسی کو نبوت نہیں مل سکتی۔
وَ اذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ اِسْمٰعِیۡلَ ۫ اِنَّہٗ کَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَکَانَ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…النجم:۱۰۔
2…خازن، مریم، تحت الآیۃ: ۵۳، ۳/۲۳۸۔