Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
105 - 695
چھوڑ دے تاکہ میرے ہاتھ اور زبان سے امن میں رہے۔(1)
نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے والوں کیلئے درس:
	امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں: اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا نصیحت کرنے کا انداز اور ان کے جواب میں آزر کا طرزِ عمل اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے سامنے اس لئے بیان فرمایا تاکہ مشرکین کی طرف سے پہنچنے والی اَذِیَّتوں پر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا دل ہلکا ہو اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جان جائیں کہ جاہلوں کا یہ مذموم طرزِ عمل (کوئی آج کا نہیں بلکہ) عرصۂ دراز سے چلا آرہا ہے۔(2)
	اس میں ان مسلمانوں کے لئے بھی درس ہے جو دینِ اسلام اور اس کے اَحکام کی دعوت دینے کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں کہ اگر اس دوران انہیں کسی کافر یا کسی مسلمان کی طرف سے کسی ناقابلِ برداشت سلوک کا سامنا کرنا پڑے تو وہ رنجیدہ ہو کر اس فریضہ کی بجا آوری کو چھوڑ نہ دیں بلکہ ایسے موقع پر انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوموں کے واقعات کو یاد کریں کہ ان بزرگ ترین ہستیوں نے کس طرح اسلام کی دعوت دی اور انہیں نافرمان اور سرکش کفار کی طرف سے کیسی کیسی اَذِیَّتوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن اُنہوں نے تمام تر تکلیفوں کے باوجود دین ِاسلام کی دعوت دینے کو نہیں چھوڑا تو ہم بھی ان کی پیروی کرتے ہوئے دین ِاسلام اور اس کے احکام کی دعوت دینا نہیں چھوڑیں گے۔ اس سے اِنْ شَآء اللّٰہ دل کو تسلی ملے گی اور اسے مزید تَقْوِیَت حاصل ہو گی۔
قَالَ سَلٰمٌ عَلَیۡکَ ۚ سَاَسْتَغْفِرُ لَکَ رَبِّیۡ ؕ اِنَّہٗ کَانَ بِیۡ حَفِیًّا ﴿۴۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: کہا بس تجھے سلام ہے قریب ہے کہ میں تیرے لیے اپنے رب سے معافی مانگوں گا بیشک وہ مجھ  پرمہربان ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: فرمایا: بس تجھے سلام ہے۔ عنقریب میں تیرے لیے اپنے رب سے معافی مانگوں گا بیشک وہ مجھ پر
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، مریم، تحت الآیۃ: ۴۶، ۳/۲۳۷۔
2…تفسیرکبیر، مریم، تحت الآیۃ: ۴۶، ۷/۴۴۵۔