Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
104 - 695
مجھے ڈر ہے کہ اگر تو رحمن عَزَّوَجَلَّکی نافرمانی کرتے اور شیطان کی پیروی کرتے ہوئے کفر کی حالت میں ہی مر گیا تو تجھے رحمن عَزَّوَجَلَّکی طرف سے کوئی عذاب پہنچے گا اور تولعنت میں اور جہنم کے عذاب میں شیطان کا رفیق اور دوست بن جائے گا۔(1)
سورۂ مریم کی آیت نمبر44اور45سے حاصل ہونے والی معلومات:
	ان آیات سے دو باتیں معلوم ہوئیں
(1)…اللّٰہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے والے کی پیروی کرنا بندے کے نافرمان بننے کا ایک سبب ہے لہٰذا ایسے لوگوں کی پیروی کی جائے جو اللّٰہ تعالیٰ اور ا س کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اطاعت گزار اور فرمانبردار ہوں۔
(2)…بندے کو چاہئے کہ اگر اس کے اہلِ خانہ یا عزیز رشتہ داروں میں سے جو لوگ اللّٰہ تعالیٰ کے احکام پر عمل نہیں کرتے یا عمل کرنے میں سستی کرتے ہیں تو انہیں احسن انداز میں اس کی ترغیب دے اور اس حوالے سے انہیں اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب سے بھی ڈرائے۔
قَالَ اَرَاغِبٌ اَنۡتَ عَنْ اٰلِہَتِیۡ یٰۤـاِبْرٰہِیۡمُ ۚ لَئِنۡ لَّمْ تَنۡتَہِ لَاَرْجُمَنَّکَ وَاہۡجُرْنِیۡ مَلِیًّا ﴿۴۶﴾
ترجمۂکنزالایمان: بولا کیا تو میرے خداؤں سے منہ پھیرتا ہے اے ابراہیم بیشک اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے پتھراؤ کروں گا اور مجھ سے زمانہ دراز تک بے علاقہ ہوجا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بولا: کیا تو میرے معبودوں سے منہ پھیرتا ہے؟ اے ابراہیم ! بیشک اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے پتھر ماروں گا اور تو عرصہ دراز کیلئے مجھے چھوڑ دے۔ 
{قَالَ:بولا۔} حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی لطف آمیز نصیحت اور دل پذیر ہدایت سے آزر نے نفع نہ اٹھایا اور وہ ا س کے جواب میں بولا: کیا تو میرے معبودوں سے منہ پھیرتا ہے؟ اے ابراہیم ! بیشک اگر تو بتوں کی مخالفت کرنے، اُنہیں برا کہنے اور اُن کے عیب بیان کرنے سے باز نہ آیا تو میں تجھے پتھر ماروں گا اور تو عرصۂ دراز کیلئے مجھ سے کلام کرنا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، مریم، تحت الآیۃ: ۴۵، ۳/۲۳۶، روح البیان، مریم، تحت الآیۃ: ۴۵، ۵/۳۳۶، ملتقطاً۔