Brailvi Books

صراط الجنان جلد ششم
106 - 695
بڑا مہربان ہے۔
{قَالَ سَلٰمٌ عَلَیۡکَ:فرمایا: بس تجھے سلام ہے۔} حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے چچا آزر کا جواب سن کر فرمایا ’’تجھے دور ہی سے سلام ہے ۔ عنقریب میں تیرے لیے اپنے رب عَزَّوَجَلَّسے معافی مانگوں گا کہ وہ تجھے توبہ اور ایمان کی توفیق دے کر تیری مغفرت فرمادے ، بیشک وہ مجھ پر بڑا مہربان ہے۔(1)
آزر کے لئے دعائے مغفرت کاوعدہ کرنے کی وجہ:
	حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنے چچا آزر کے لئے جو مغفرت کی دعا فرمائی اس کا ذکر سورۂ شُعراء کی آیت نمبر 86 میں ہے اور یہاں یہ یاد رہے کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا اپنے چچا آزر سے یہ کہنا کہ’’ عنقریب میں تیرے لیے اپنے رب سے معافی مانگوں گا‘‘ اس وجہ سے تھا کہ آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اس کے ایمان لانے کی تَوَقُّع تھی اور جب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر اس کا ایمان نہ لانا واضح ہو گیا تواس کے بعد آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام آزر سے بیزار ہو گئے اورپھر کبھی اس کے لئے مغفرت کی دعا نہ کی۔اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
’’وَ مَا کَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰہِیۡمَ لِاَبِیۡہِ اِلَّا عَنۡ مَّوْعِدَۃٍ وَّعَدَہَاۤ اِیَّاہُ ۚ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗۤ اَنَّہٗ عَدُوٌّ لِّلہِ تَبَرَّاَ مِنْہُ ؕ اِنَّ اِبْرٰہِیۡمَ لَاَوَّاہٌ حَلِیۡمٌ‘‘(2)
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور ابراہیم کا اپنے باپ کی مغفرت کی دعا کرنا صرف ایک وعدے کی وجہ سے تھا جو انہوں نے اس سے کر لیا تھا پھر جب ابراہیم کے لئے یہ بالکل واضح ہوگیا کہ وہ اللّٰہ کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہوگئے ۔ بیشک ابراہیم بہت آہ و زاری کرنے والا ، بہت برداشت کرنے والا تھا۔
وَ اَعْتَزِلُکُمْ وَمَا تَدْعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللہِ وَ اَدْعُوۡ رَبِّیۡ ۫ۖ عَسٰۤی اَلَّاۤ اَکُوۡنَ بِدُعَآءِ رَبِّیۡ شَقِیًّا ﴿۴۸﴾
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، مریم، تحت الآیۃ: ۴۷، ۳/۲۳۷۔
2…توبہ:۱۱۴۔