Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
95 - 601
کا خالق ہے اور وہ اکیلا سب پر غالب ہے۔ 
{قُلْ:تم فرماؤ۔} یعنی اے حبیب ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان مشرکین سے فرما ئیں جو بتوں کی عبادت کرتے ہیں کہ زمین و آسمان کا مالک کون ہے؟ ان کے معاملات کی تدبیر کون فرماتا ہے اور ان دونوں کو پیدا کرنے والا کون ہے؟ اگر وہ جواب نہ دیں تو آپ خود ہی فرما دیں کہ زمین و آسمان کا رب اللّٰہ تعالیٰ ہے، کیونکہ اس سوال کا اس کے سوا اور کوئی جواب ہی نہیں اور مشرکین بھی غیرُ اللّٰہ کی عبادت کرنے کے باوجود اس بات کااقرار کرتے ہیں کہ آسمان و زمین کا خالق اللّٰہ تعالیٰ ہے ۔جب یہ امر مُسَلَّم ہے تو اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ مشرکین سے فرما دیں کہ  کیا تم نے زمین و آسمان کے رب کے سوا بتوں کو مدد گار بنا رکھا ہے حالانکہ وہ بت اپنے لئے نفع اور نقصان کے مالک نہیں ہیں؟ جب اُن کی بے قدرتی اور بیچارگی کا یہ عالَم ہے تو وہ دوسرے کو کیا نفع و نقصان پہنچاسکتے ہیں۔ ایسوںکو معبود بنانا اور اس کے بالمقابل خالق ،رازق ،قوی اور قادر کو چھوڑدینا انتہا درجے کی گمراہی ہے۔ (1)
{قُلْ ہَلْ یَسْتَوِی الۡاَعْمٰی وَالْبَصِیۡرُ:تم فرما ؤ: کیا اندھا اور آنکھ والابرابر ہوجائیں گے؟ } آیت کے اس حصے میں اللّٰہ تعالیٰ نے بتوں کو پوجنے والے مشرکین اور اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے مومنین کی ایک مثال بیان فرمائی ، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ فرما دیں کیا اندھا اور آنکھ والا برابر ہو سکتے ہیں یا اندھیرے اور روشنی برابر ہوجائیں گے ؟تو جس طرح اندھا اور آنکھ والا برابر نہیں ہو سکتے اسی طرح کافر اور مومن بھی برابر نہیں ہو سکتے اور جس طرح اندھیرے اور روشنی برابر نہیں ہو سکتے اسی طرح کفر و شرک اور ایمان بھی برابر نہیں ہو سکتے۔کافر کو اندھے جیسا اس لئے فرمایا گیا ہے کہ اندھا انسان درست راستے پر نہیں چلتا اسی طرح کافر بھی سیدھے راستے پر نہیں چلتا۔ (2) 
{اَمْ جَعَلُوۡا لِلہِ شُرَکَآءَ:کیا انہوں نے اللّٰہ کے لیے شریک ٹھہرا لئے ہیں۔}  آیت کے اس حصے میںایک اور طریقے سے بت پرستوں کا رد کیا گیا ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ مشرکین جو بتوں کو اللّٰہ تعالیٰ کا شریک قرار دیتے ہیں کیا ان کے علم میں ہے کہ بتوں نے بھی کوئی مخلوق پیدا کی ہے جس کی وجہ سے انہیں یہ شبہ ہو گیا کہ بت بھی خالق ہیں اور اللّٰہ تعالیٰ بھی خالق ہے اور جب اللّٰہ تعالیٰ اپنے خالق ہونے کی وجہ سے عبادت کا مستحق ہے تو یہ بت بھی ا س وجہ سے عبادت کے مستحق
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۱۶، ۳/۵۹، روح البیان، الرعد، تحت الآیۃ: ۱۶،۴/۳۵۷، مدارک، الرعد، تحت الآیۃ: ۱۶، ص۵۵۳، ملتقطاً۔
2…خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۱۶، ۳/۶۰۔