ٹھہرے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ مشرکین یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ بتوں نے کسی بھی چیز کو پیدا نہیں کیا تو جب حق بات یہی ہے تو مشرکین کا بتوں کو عبادت میں اللّٰہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانا جہالت کے سوا اور کیا ہو سکتاہے۔او رحقیقت یہی ہے کہ ہر شے کا خالق اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہے اور وہی سب پر غالب ہے اورسب کچھ اسی کی قدرت اور اختیار میں ہے۔ (1)دنیا و آخرت میں جو کچھ کسی کے پاس ہے یا ہوگا وہ سب اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے دینے سے ہے اور ہوگا۔ جیسے فرشتوں کی عظیم قوتیں، انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاء رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی عظیم طاقتیں، معجزات و کرامات اور یونہی دنیا میں لوگوں کی بادشاہتیں، مِلکِیَّتیں، حکومتیں وغیرہا سب اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے دینے سے ہے۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ارادے کے بغیر کوئی ایک ذرے کا بھی مالک و مختار نہیں بن سکتا۔
اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِیَۃٌۢ بِقَدَرِہَا فَاحْتَمَلَ السَّیۡلُ زَبَدًا رَّابِیًا ؕ وَمِمَّا یُوۡقِدُوۡنَ عَلَیۡہِ فِی النَّارِ ابْتِغَآءَ حِلْیَۃٍ اَوْ مَتٰعٍ زَبَدٌ مِّثْلُہٗ ؕ کَذٰلِکَ یَضْرِبُ اللہُ الْحَقَّ وَالْبٰطِلَ ۬ؕفَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْہَبُ جُفَآءً ۚ وَاَمَّا مَا یَنۡفَعُ النَّاسَ فَیَمْکُثُ فِی الۡاَرْضِ ؕ کَذٰلِکَ یَضْرِبُ اللہُ الۡاَمْثَالَ ﴿ؕ۱۷﴾
ترجمۂکنزالایمان:اس نے آسمان سے پانی اتارا تو نالے اپنے اپنے لائق بہہ نکلے تو پانی کی رو اس پر ابھرے ہوئے جھاگ اٹھا لائی اور جس پر آگ دہکاتے ہیں گہنا یا اور اسباب بنانے کو اس سے بھی ویسے ہی جھاگ اٹھتے ہیں اللّٰہ بتاتا ہے کہ حق اور باطل کی یہی مثال ہے تو جھاگ تو پُھک کر دور ہوجاتا ہے اور وہ جو لوگوں کے کام آئے زمین میں رہتا ہے اللّٰہ یوں ہی مثالیں بیان فرماتا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اس نے آسمان سے پانی اتارا تو نالے اپنی اپنی گنجائش کی بقدر بہہ نکلے تو پانی کی رَو اُس پر ابھرے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیرکبیر، الرعد، تحت الآیۃ: ۱۶، ۷/۲۶-۲۷، خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۱۶، ۳/۶۰، ملتقطاً۔