Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
91 - 601
آکرحضورِ اقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے عرض کیا کہ ایسا بڑا کافر، سیاہ دل اور سرکش دیکھنے میں نہیں آیا۔ حضور پُرنور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا ’’ اس کے پاس پھر جاؤ۔ اس نے پھر وہی گفتگو کی اور اتنا مزید کہا کہ کیا محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کی دعوت قبول کرکے میں ایسے رب کو مان لوں جسے نہ میں نے دیکھا نہ پہچانا ؟یہ حضرات پھر واپس ہوئے اور انہوں نے عرض کی کہ حضور! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اس کی خباثت تو اور ترقی پر ہے۔ ارشاد فرمایا ’’ پھر جاؤ۔ صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم حکم کی تعمیل کرتے ہوئے پھر گئے ،جس وقت اس سے گفتگو کررہے تھے اور وہ ایسی ہی سیاہ دلی کی باتیں بک رہا تھا تو ایک بادل آیا، اس سے بجلی چمکی اور کڑک پیدا ہوئی ، کچھ دیر بعد بجلی گری اور اس کافر کو جلا دیا۔ یہ حضرات اس کے پاس بیٹھے رہے اور جب وہاں سے واپس ہوئے تو راستے میں انہیں صحابۂ کرام  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی ایک اور جماعت ملی ،وہ کہنے لگے’’ کہیے ،وہ شخص جل گیا ؟ان حضرات نے کہا ’’ آپ لوگوں کو کیسے معلوم ہوگیا ؟انہوں نے فرمایا ’’ سرکارِ دو عالَمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے پاس وحی آئی ہے۔ ’’وَ یُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیۡبُ بِہَا مَنۡ یَّشَآءُ وَہُمْ یُجَادِلُوۡنَ فِی اللہِ‘‘ (1)
 	بعض مفسرین نے ذکر کیا ہے کہ یہ آیت عامر بن طفیل اور اَرْبَد بن ربیعہ کے بارے میں نازل ہوئی ۔عامر بن طفیل نے اربد بن ربیعہ سے کہا کہ محمد (مصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) کے پاس چلو، میں انہیں باتوں میں لگائوں گا اور تم پیچھے سے تلوار سے حملہ کر دینا ۔یہ مشورہ کرکے وہ حضوراقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاس آئے اور عامر نے حضورِ انورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے گفتگو شروع کی، بہت طویل گفتگو کے بعد کہنے لگا کہ اب ہم جاتے ہیں اور ایک لشکرِ جَرار آپ پر لائیں گے۔ یہ کہہ کر وہ چلا آیا اور باہر آکر اربد سے کہنے لگا کہ تو نے تلوار کیوں نہیں ماری ؟اُس نے کہا جب میں تلوار مارنے کا ارادہ کرتا تھا تو تو درمیان میں آجاتا تھا۔ رسول اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان لوگوں کے نکلتے وقت یہ دعا فرمائی ۔ ’’اَللّٰھُمَّ اکْفِہِمَا بِمَا شِئْتَ ‘‘ جب یہ دونوں مدینہ شریف سے باہر آئے تو اُن پر بجلی گری، اربد جل گیا اور عامر بھی اسی راہ میں بہت بدتر حالت میں مرا ۔ (2)
لَہٗ دَعْوَۃُ الْحَقِّ ؕ وَالَّذِیۡنَ یَدْعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ لَا یَسْتَجِیۡبُوۡنَ لَہُمۡ بِشَیۡءٍ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۱۳، ۳/۵۷۔
2…ابو سعود، الرعد، تحت الآیۃ: ۱۳، ۳/۱۵۳، ملتقطاً۔
-