گفتگو روک کر اللّٰہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول ہو جائیں اور اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب سے اس کی پناہ مانگیں، چنانچہ حضرت عبداللّٰہ بن زبیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا جب گرج کی آواز سنتے تو آپ گفتگو چھوڑ کر یہ آیت پڑھتے ’’وَ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِہٖ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ مِنْ خِیۡفَتِہٖ‘‘ پھر فرماتے: بے شک یہ زمین والوں کے لئے شدید وعید ہے۔ (1)
حضرت عبداللّٰہ بن عمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ،جب نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَگرج اور کڑک کی آواز سنتے تو یہ دعا مانگتے ’’اَللّٰہُمَّ لاَ تَقْتُلْنَا بِغَضَبِکَ وَلاَ تُہْلِکْنَا بِعَذَابِکَ وَعَافِنَا قَبْلَ ذٰلِکَ‘‘ یعنی اے اللّٰہ ! ہمیں اپنے غضب سے نہ مارنا اور اپنے عذاب سے ہلاک نہ کرنا اور ہمیں اپنا عذاب نازل ہونے سے پہلے عافیت عطا فرما۔ (2)
حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جب تم گرج کی آواز سنو تو اللّٰہ تعالیٰ کا ذکر کرنا شروع کر دو کیونکہ یہ ذکر کرنے والے کو نہیں پہنچتی۔ (3)
{وَالْمَلٰٓئِکَۃُ مِنْ خِیۡفَتِہٖ:اور فرشتے اس کے ڈر سے۔} اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو بادلوں پر مامو ر فرشتے کے مددگار ہیں یا اس سے تمام ملائکہ مراد ہیں اور آیت کا معنی یہ ہے کہ فرشتے اللّٰہ تعالیٰ کی ہیبت اور اس کے جلال سے اس کی تسبیح کرتے ہیں۔ (4)
{وَ یُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ:اور وہ کڑک بھیجتا ہے۔} صَاعِقَہْاس شدید آواز کو کہتے ہیں جو آسمان وزمین کے درمیان سے اترتی ہے، پھر اس میں آگ پیدا ہوجاتی ہے یا عذاب یا موت اور وہ شدید آواز اپنی ذات میں ایک ہی چیز ہے اور یہ تینوں چیزیں اسی سے پیدا ہوتی ہیں۔ شانِ نزول:حضرت حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے عرب کے ایک نہایت سرکش کافر کو اسلام کی دعوت دینے کے لئے اپنے چند صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو بھیجا، انہوں نے اس کافر کو دعوت دی تو وہ کہنے لگا ’’محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کا رب کون ہے جس کی تم مجھے دعوت دیتے ہو۔ کیا وہ سونے کا ہے یا چاندی کا ، لوہے کا ہے یا تانبے کا؟ مسلمانوں کو یہ بات بہت گراں گزری اور انہوں نے واپس
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…سنن الکبری للبیہقی، کتاب صلاۃ الاستسقائ، باب ما یقول اذا سمع الرعد، ۳/۵۰۵، الحدیث: ۶۴۷۱۔
2…ترمذی، کتاب الدعوات، باب ما یقول اذا سمع الرعد، ۵/۲۸۰، الحدیث: ۳۴۶۱۔
3…معجم الکبیر، عطاء عن ابن عباس، ۱۱/۱۳۲، الحدیث: ۱۱۳۷۱۔
4…جلالین مع صاوی، الرعد، تحت الآیۃ: ۱۳، ۳/۹۹۵۔