Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
92 - 601
اِلَّا کَبَاسِطِ کَفَّیۡہِ اِلَی الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاہُ وَمَا ہُوَ بِبَالِغِہٖ ؕ وَمَا دُعَآءُ الْکٰفِرِیۡنَ اِلَّا فِیۡ ضَلٰلٍ ﴿۱۴﴾
ترجمۂکنزالایمان: اسی کا پکارنا سچا ہے اور اُس کے سوا جن کو پکارتے ہیں وہ ان کی کچھ بھی نہیں سنتے مگر اس کی طرح جو پانی کے سامنے اپنی ہتھیلیاں پھیلائے بیٹھا ہے کہ اس کے منہ میں پہنچ جائے اور وہ ہرگز نہ پہنچے گا اور کافروں کی ہر دعا بھٹکتی پھرتی ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اسی کا پکارنا سچا ہے اور اُس کے سوا جن کو یہ (کافر) پکارتے ہیں وہ ان کی کچھ بھی نہیں سنتے مگر اس کی طرح جو پانی کے سامنے اپنی ہتھیلیاں پھیلائے بیٹھا ہے کہ اس کے منہ میں پہنچ جائے حالانکہ وہ ہرگز اس تک نہ پہنچے گااور کافروں کا پکارنا گمراہی میں ہی ہے۔ 
{لَہٗ دَعْوَۃُ الْحَقِّ:اسی کا پکارنا سچا ہے۔} اس سے مراد یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کرنا اور ’’لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہ‘‘ کی گواہی دینا حق ہے یاا س کا معنی یہ ہے کہ  اللّٰہ تعالیٰ دعاقبول کرتا ہے اور اُسی سے دعا کرنا سزاوار ہے۔ (1)
{وَالَّذِیۡنَ یَدْعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ:اور اُس کے سوا جن کو یہ پکارتے ہیں ۔} یعنی کفار جو بتوں کی عبادت کرتے ہیں اور اُن سے مرادیں مانگتے ہیں وہ ان کی کچھ بھی نہیں سنتے ،ان کی مثال تو اس شخص کی طرح ہے جو پانی کے سامنے اپنی ہتھیلیاں پھیلائے اس لئے بیٹھا ہے کہ پانی خود ہی اس کے منہ میں پہنچ جائے تو ہتھیلیاں پھیلانے اور بلانے سے پانی کنوئیں سے نکل کر اس کے منہ میں کبھی نہیں آئے گا کیونکہ پانی کو نہ علم ہے نہ شعور کہ جس کی وجہ سے وہ اس کی حاجت اور پیاس کو جان لے اور اس کے بلانے کو سمجھے اور پہچان لے، نہ پانی میں یہ قدرت ہے کہ اپنی جگہ سے حرکت کرے اور اپنے طبعی تقاضے کے خلاف اُوپر چڑھ کر بلانے والے کے منہ میں پہنچ جائے ،یہی حال بتوں کا ہے کہ نہ انہیں بت پرستوں کے پکارنے کی خبر ہے نہ اُن کی حاجت کا شعور اورنہ وہ اُن کونفع پہنچانے پر کچھ قدرت رکھتے ہیں۔ (2)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ1…تفسیرکبیر، الرعد، تحت الآیۃ: ۱۴، ۷/۲۴، ملخصاً۔
2…روح البیان، الرعد، تحت الآیۃ: ۱۴، ۴/۳۵۵۔