Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
89 - 601
{وَیُنْشِ‍ئُ السَّحَابَ الثِّقَالَ: اور وہ بھاری بادل پیدا فرماتا ہے۔} اس آیت کا خلاصۂ کلام یہ ہے کہ پانی سے بوجھل بادلوں کو پیدا فرمانا بھی اللّٰہ تعالیٰ ہی کی قدرت ہے۔ (1)
وَ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِہٖ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ مِنْ خِیۡفَتِہٖ ۚ وَ یُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیۡبُ بِہَا مَنۡ یَّشَآءُ وَہُمْ یُجَادِلُوۡنَ فِی اللہِ ۚ وَ ہُوَ شَدِیۡدُ الْمِحَالِ ﴿ؕ۱۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: اور گر ج اسے سراہتی ہوئی اس کی پاکی بولتی ہے اور فرشتے اس کے ڈر سے اور کڑک بھیجتا ہے تو اسے ڈالتا ہے جس پر چاہے اور وہ اللّٰہ میں جھگڑتے ہوتے ہیں اور اس کی پکڑ سخت ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور رعد اس کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتا ہے اور اس کے خوف سے فرشتے بھی (تسبیح کرتے ہیں۔) اور وہ کڑک بھیجتا ہے تو اسے جس پر چاہتا ہے ڈال دیتا ہے حالانکہ وہ لوگ اللّٰہ کے بارے میں جھگڑرہے ہوتے ہیں اور وہ سخت پکڑنے والا ہے۔
{وَ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِہٖ:اور گرج اس کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتی ہے۔} گرج یعنی بادل سے جو آواز پیدا ہوتی ہے اس کے تسبیح کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اس آواز کا پیدا ہونا خالق، قادر، ہر نقص سے پاک ذات کے وجود کی دلیل ہے ۔ ایک قول یہ ہے کہ رَعد کی تسبیح سے یہ مراد ہے کہ اس آواز کو سن کر اللّٰہ تعالیٰ کے بندے اس کی تسبیح کرتے ہیں۔ بعض مفسرین کا قو ل یہ ہے کہ رعد ایک فرشتہ کا نام ہے جو بادل پرما مور ہے، وہ اس کو چلاتا ہے اور بادل سے جو آواز سنی جاتی ہے وہ رعد نامی فرشتے کی تسبیح ہے ۔ (2)
گرج کی آواز سن کرکئے جانے والے عمل:
	یاد رہے کہ گرج اور کڑک کی آواز اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے ایک وعید ہے لہٰذا جب اس کی آواز سنیں تو اپنی دنیوی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…تفسیرکبیر، الرعد، تحت الآیۃ: ۱۲، ۷/۲۲۔
2…خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۱۳، ۳/۵۶، مدارک، الرعد، تحت الآیۃ: ۱۳، ص۵۵۲، ملتقطاً۔