Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
88 - 601
مغفرت کی امید کی حقیقت:
	امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰیعَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ اَربابِ قلوب جانتے ہیں کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے اور دل زمین کی طرح ہے، ایمان اس میں بیج کی حیثیت رکھتا ہے اور عبادات زمین کو الٹ پلٹ کرنے، صاف کرنے ، نہریں کھودنے اور ان (زمینوں) کی طرف پانی جاری کرنے کی طرح ہیں اور وہ دل جو دنیا میں غرق اور ڈوبا ہوا ہے اُس بنجر زمین کی طرح ہے جس میں بیج پھل نہیں لاتا اور قیامت کا دن فصل کاٹنے کا دن ہے اور ہر شخص وہی کچھ کاٹے گا جو اس نے بویا ہوگا ۔۔ ۔ ۔تو مناسب یہی ہے کہ بندے کی امید ِمغفرت کو کھیتی والے پر قیاس کیا جائے کہ جو شخص اچھی زمین حاصل کرتا ہے اور اس میں عمدہ بیج ڈالتا ہے جو نہ تو خراب ہوتا ہے اور نہ ہی بدبودار، اور پھر اس کی تمام ضروریات کو پورا کرتا ہے اور وہ وقت پر پانی دینا پھر زمین کو کانٹوں اور گھاس پھونس نیز ان تمام خرابیوں سے پاک کرنا ہے جو بیج کو بڑھنے سے روکتی یا خراب کر دیتی ہیں، پھر وہ اللّٰہ تعالیٰ کے فضلکا منتظر ہوکر بیٹھ جائے کہ وہ زمین کو بجلی کی گرج اور دیگر مُفسد آفات سے بچائے گا یہاں تک کہ کھیتی اپنی تکمیل کو پہنچ جائے تو اس انتظار کو امید کہتے ہیں۔ اور اگر سخت زمین میں بیج ڈالے جو شور زَدہ ہو اور بلندی پر ہو جس تک پانی نہیں پہنچ سکتا اور بیج کی پرواہ بھی نہ کرے، پھر اس کے کٹنے کا انتظار کرے تو اس انتظار کو امید نہیں کہتے بلکہ بیوقوفی اور دھوکہ کہتے ہیں اور اگر اچھی زمین میں بیج ڈالا لیکن اس میں پانی نہیں ہے اب وہ بارش کے انتظار میں ہے اور یہ ایسا وقت ہے جس میں عام طور پر بارش نہیں برستی اور نہ ہی اس میں کوئی رکاوٹ ہوتی ہے تو اس انتظار کو امید نہیں بلکہ تمنا کہتے ہیں تو گویا امید کا لفظ کسی ایسی محبوب چیز کے انتظار پر صادق آتا ہے جس کے لیے وہ تمام اسباب تیار کردیئے گئے جو بندے کے اختیار میں ہیں اور صرف وہی اَسباب باقی رہ گئے جو بندے کے اختیار میں نہیں ہیں اور وہ اللّٰہ تعالیٰ کا فضل ہے جس کی وجہ سے تمام نقصان دِہ اور فاسد کرنے والے اسباب کھیتی سے دور ہوجاتے ہیں، پس جب بندہ ایمان کا بیج ڈالتا ہے اور اس کو عبادات کا پانی پلاتا ہے دل کو بد اَخلاقی کے کانٹوں سے پاک کرتا ہے اور اللّٰہ تعالیٰ کے فضل کامرتے دم تک منتظر رہتا ہے، حسنِ خاتمہ جو کہ مغفرت تک پہنچاتا ہے اس کا انتظار کرتا ہے تو یہ انتظار حقیقی امید ہے اور یہ ذاتی طور پر قابلِ تعریف ہے اور موت تک اسبابِ ایمان کے مطابق اسبابِ مغفرت کی تکمیل کے لیے قیام اور دوام کا باعث ہے، اور اگر ایمان کے بیج کو عبادات کا پانی نہ دیاجائے یا دل کو برے اَخلاق سے مُلَوَّث چھوڑ دیا جائے اور دنیاوی لذت میں مُنْہَمِک ہوجائے، پھر مغفرت کا انتظار کرے تو اس کا انتظار ایک بیوقوف اور دھوکے میں مبتلا شخص کا انتظار ہے۔ (1)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ1…احیاء العلوم، کتاب الخوف والرجاء، ۴/۱۷۵۔