Brailvi Books

صراط الجنان جلد پنجم
87 - 601
بارش کی امید کر رہے ہوتے ہیں۔ (1)
دل میں خوف اور امید دونوں رکھے جائیں:
	یاد رہے کہ بارش مقیم اور مسافر دونوں کے لئے کبھی نقصان کا سبب ہوتی ہے کہ اس سے ان کے مال و اسباب اور ذخیرہ کی ہوئی گندم وغیرہ خراب ہو جاتی ہے اور کبھی فائدے کا باعث ہوتی ہے کہ مسافر کو اپنی ضروریات میں استعمال کے لئے پانی مل جاتا ہے اور مقیم کی فصلوں وغیرہ کی نشوونما ہو جاتی ہے اسی طرح بجلی کا چمکنا بھی مقیم اور مسافر دونوں کے لئے فائدے اور نقصان کا باعث ہوتا ہے لہٰذا ہر انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے دل میں خوف اور امید دونوں رکھے کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ کبھی وہ چیز لاتا ہے کہ جس میں ظاہری اعتبار سے تو شر ہوتا ہے لیکن درحقیقت اس میں بھلائی ہوتی ہے اور کبھی وہ چیز لاتا ہے کہ جس میں ظاہری اعتبار سے تو بھلائی ہوتی ہے لیکن درحقیقت اس میں شر ہوتا ہے۔ (2)
امید اور خوف کی حقیقت:
	 اگر مستقبل میں کسی چیز کے پائے جانے کا احتمال ہے اور وہ دل پر غالب ہے تو اسے انتظار اور توقُّع کہتے ہیں اور جس کا انتظار ہے اگر وہ ایسی ناپسندیدہ ہے جس سے دل میں دکھ اور تکلیف پیدا ہوتی ہے تو اسے خوف کہتے ہیں اور جس کا انتظار ہے اگر وہ پسندیدہ ہے اور دل کا اس سے تعلق پیدا ہوچکا ہے اور اس سے دل کو لذت و آرام پہنچ رہا ہے تو اسے رَجا یعنی امید کہتے ہیں تو گویا کہ امید دل کی راحت کانام ہے جو محبوب چیز کے انتظار سے حاصل ہوتی ہے، لیکن یہ محبوب چیز جس کی توقع کی جا رہی ہے اس کا کوئی سبب ہونا چاہئے ، اب اگر اس کا انتظار اکثر اسباب کے ساتھ ہے تو اس پرامید کا لفظ صادق آتا ہے اور اگر اسباب بالکل نہ ہوں یا اِضطراب کے ساتھ ہوں توامید کے مقابلے میں اس پر دھوکے کا لفظ زیادہ صادق آتا ہے اور اگر اسباب کا وجود بھی معلوم نہ ہو اور ان کی نفی کا علم بھی نہ ہو تو اس کے انتظار پر تمنا کا نام زیادہ صادق آتا ہے کیوں کہ یہ انتظار کسی سبب کے بغیر ہے الغرض کوئی بھی حالت ہو امیداور خوف کانام اسی پر صادق آتا ہے جس میں تَرَدُّد ہو اور جس کے بارے میں یقین ہو اس پر صادق نہیں آتا کیوں کہ طلوعِ آفتاب کے وقت نہیں کہا جاتا کہ مجھے طلوعِ آفتاب کی امید ہے اور غروب کے وقت یہ نہیں کہا جاتا کہ مجھے غروبِ آفتاب کا خوف ہے کیوں یہ دونوں باتیں قطعی ہیں۔(3)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ1…خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۱۲، ۳/۵۶، روح البیان، الرعد، تحت الآیۃ: ۱۲، ۴/۳۵۲، ملتقطاً۔
2…صاوی، الرعد، تحت الآیۃ: ۱۲، ۳/۹۹۵، ملخصاً۔
3…احیاء العلوم، کتاب الخوف والرجاء، ۴/۱۷۴-۱۷۵۔